Bharat Express DD Free Dish

Umar Ansari

عمر انصاری اس وقت کاسگنج جیل میں قید ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنی والدہ افشاں انصاری کے فرضی دستخط کر کے جائیداد کے دستاویزات میں دھوکہ دہی کی۔

اشتعال انگیز تقریر کیس میں عمر پہلے ہی بری ہو چکے ہیں۔ یہ کیس 3 مارچ 2022 کا ہے، جب مؤ صدر کے امیدوار عباس انصاری نے مبینہ طور پر اتر پردیش اسمبلی انتخابی مہم کے دوران ایک عوامی میٹنگ میں سرکاری افسران کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیے تھے۔ اس مقدمے میں عمر کا نام بھی آیا تھا، جسے مؤ کی عدالت نے بری کر دیا تھا۔

مختار انصاری کے بیٹے عمرانصاری کوغازی پورجیل سے کاس گنج جیل منتقل کردیا گیا ہے۔ پولیس نے اس کے پیچھے سیکورٹی وجوہات بتائی ہیں۔ عمرانصاری پردستاویزپراپنی ماں کے فرضی دستخط کرنے کا الزام لگا ہے۔

سماعت کے دوران کپل سبل نے کہا کہ یہ الزام ہے کہ مختار کو جیل میں زہر دیا گیا تھا۔ اس کی تحقیق ضروری ہے۔ سبل نے کہا کہ انہوں نے پہلے باندہ جیل میں مختار انصاری کی جان کو خطرہ کے خوف سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ لیکن اب مختار کا انتقال ہو چکا ہے۔

درخواست میں مختار انصاری کی موت کی حقیقت سامنے لانے کی استدعا کی جائے گی۔ بیٹے عمر انصاری کی مختار انصاری سے آخری گفتگو کی آڈیو بھی بطور ثبوت پیش کی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق عمر انصاری اور نکہت بانو کی عباس انصاری سے ملاقات جیل کے اندر تقریباً 30 منٹ تک جاری رہی۔ اس دوران عباس انصاری بہت جذباتی ہو گئے اور پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے۔ عباس انصاری سے ملاقات کے حوالے سے عمر انصاری نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ باپ کی موت کے بعد بیٹے کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔

مختار انصاری کے بیٹے عمر انصاری نے باندہ کے ضلع مجسٹریٹ کو خط لکھ کر اپنے والد کا پوسٹ مارٹم دہلی ایمس کے ڈاکٹروں سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

جسٹس رشی کیش رائے اور جسٹس پی کے مشرا کی بنچ نے الہ آباد ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرنے والی عمر انصاری کی عرضی پر اتر پردیش حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔