Bharat Express DD Free Dish

Tmc Vs Bjp

مغربی بنگال کے فالٹا میں ٹی ایم سی امیدوار جہانگیر خان نے یو پی کے بڑبولے افسر اجے پال شرما کے متنازع اعلان  پر اپنی سخت ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بی جے پی کے اشارے پر کام کر رہے ہیں اور مجھے انکاؤنٹر کی دھمکی دے رہے ہیں۔

ویڈیو میں سیانی گھوش کو مبینہ طور پر یہ کہتے ہوئے سنا گیا: ’’چڈھا، چڈی بن سکتا ہے‘‘ جو کہ راگھو چڈھا کے حوالے سے کہا گیا، جنہوں نے حال ہی میں عام آدمی پارٹی چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ یہ جملہ نہ صرف ایک سیاسی طنز تھا بلکہ اس میں سکھ اور پنجابی شناخت کا مذاق اڑایا گیا ہے۔

امت شاہ نے ممتا بنرجی کے بیان پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا ریاست میں ’’غنڈوں کو عزت دی جانی چاہیے؟‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ترنمول کانگریس (TMC) کی قیادت ایسے عناصر کو تحفظ فراہم کرتی ہے جو عوام کو پریشان کرتے ہیں۔ یہ بیان دراصل ممتا بنرجی کے اس اعلان کے بعد آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ امت شاہ کے ’’پرتشدد بیانات‘‘ کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی اور بطور وزیر داخلہ انہیں ایسی زبان استعمال نہیں کرنی چاہیے۔

وزیرداخلہ نے جمعہ کو آرام باغ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹی ایم سی کے مبینہ ’’غنڈوں‘‘ کو سخت وارننگ دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا: ’’میں دیدی کے غنڈوں کو خبردار کرتا ہوں کہ 29 تاریخ کو اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں۔ اگر عوام کو تنگ کیا گیا تو 5 مئی کے بعد انہیں الٹا لٹکا کر سیدھا کر دیا جائے گا۔‘‘

بی جے پی نے اپنے منشور کو ’سونار بنگلہ‘ کا نام دیتے ہوئے روزگار، خواتین کے لیے ریزرویشن اور فلاحی اسکیموں کا وعدہ کیا ہے۔ دوسری جانب ٹی ایم سی نے اسے کھوکھلے وعدوں کا مجموعہ قرار دیتے ہوئے عوام سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی ہے۔ 2021 کے انتخابات میں ٹی ایم سی نے 200 سے زائد نشستیں جیت کر برتری حاصل کی تھی۔

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کی ووٹنگ 23 اپریل کو جبکہ دوسرے مرحلے کی ووٹنگ 29 اپریل کو ہوگی، اور نتائج 4 مئی کو سامنے آئیں گے۔

ممتا بنرجی نے دعویٰ کیا کہ حکومت 543 نشستوں کے بجائے 850 نشستیں کرنے کے منصوبے کے ذریعے انتخابی توازن کو بدلنا چاہتی تھی۔ ان کے مطابق بی جے پی کو خدشہ تھا کہ موجودہ حلقوں میں کامیابی مشکل ہے، اسی لیے وہ حلقہ بندی کے ذریعے نئے سیاسی حالات پیدا کرنا چاہتی ہے۔

مغربی بنگال میں 294 رکنی اسمبلی کے انتخابات دو مرحلوں میں 23 اور 29 اپریل کو ہوں گے جبکہ ووٹوں کی گنتی 4 مئی کو کی جائے گی۔ ریاست میں حکمراں ترنمول کانگریس، بی جے پی، کانگریس اور بائیں بازو کی جماعتوں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔

مغربی بنگال کی 50 سے زائد اسمبلی نشستوں پر ہندی بولنے والے ووٹر ہار جیت کے فرق کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسی کو مدنظر رکھتے ہوئے بی جے پی نے بہار کے 100 سے زیادہ لیڈروں کو بنگال میں تعینات کیا ہے، جن میں منگل پانڈے اور نتن نوین نمایاں ہیں۔

بی جے پی کو ’بنگال مخالف (بنگلا بیرودھی)’ قرار دیتے ہوئے بنرجی نے کہا کہ آنے والے انتخابات صرف بی جے پی کو ہرانے کے لیے نہیں بلکہ بنگال کو بدنام کرنے کا حساب لینے کے لیے بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بار وہ خود دہلی گئے، اگلی بار وزیراعلیٰ ممتا بنرجی جائیں گی۔