Bharat Express DD Free Dish

Test Cricket

جو روٹ ایشیائی ٹیموں کے خلاف سب سے زیادہ فتوحات حاصل کرنے والے انگلش کپتان بن گئے ہیں۔ روٹ کی قیادت میں انگلینڈ نے ایشیائی ٹیموں کے خلاف یہ 15ویں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے اس معاملے میں انگلینڈ کے سابق کپتان اینڈریو اسٹراس کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

دونوں کو آئی سی سی کے ضابطۂ اخلاق کے آرٹیکل 2.12 کی خلاف ورزی کا قصوروار پایا گیا، جو کسی کھلاڑی، معاون عملے کے رکن، امپائر، میچ ریفری یا کسی دوسرے شخص کے ساتھ، بین الاقوامی میچ کے دوران، نامناسب جسمانی رابطے سے متعلق ہے۔

سری لنکا کے خلاف کولمبو ٹیسٹ میچ میں بھی بھارتی بلے باز دیو دت پڈیکل کے بلے کا کمال دیکھنے کو ملا، جہاں ان کے بلے سے سیریز کی دوسری سنچری دیکھنے کو ملی۔ پڈیکل سنچری مکمل کرنے کے بعد 117 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔

گال انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں ہندوستانی ٹیم اب تک پانچ ٹیسٹ میچ کھیل چکی ہے۔ ان میں سے دو مقابلوں میں اسے کامیابی حاصل ہوئی، جبکہ تین میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ سری لنکا کی سرزمین پر ہندوستان نے مجموعی طور پر 24 ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں، جن میں ٹیم نے نو مقابلے جیتے اور سات میں اسے شکست ہوئی ہے۔

ٹیسٹ کرکٹ کے مجموعی ریکارڈ کی بات کی جائے تو بھارت اور سری لنکا کے درمیان اب تک 46 ٹیسٹ میچ کھیلے جا چکے ہیں۔ ان میں بھارتی ٹیم نے 22 مقابلوں میں کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ سری لنکا کو صرف 7 میچوں میں جیت نصیب ہوئی ہے۔ دونوں ٹیموں کے درمیان آخری مرتبہ 2022 میں ٹیسٹ سیریز کھیلی گئی تھی۔

بائیں گھٹنے کی انجری سے مکمل صحت یاب نہ ہونے کی بنا پر بمراہ دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز نہیں کھیلیں گے۔ جموں و کشمیر کے نوجوان تیزگیندباز عاقب نبی کو پہلی بار بھارتی ٹیسٹ ٹیم میں موقع دیا گیا ہے۔ عاقب نبی اب تک 43 فرسٹ کلاس میچوں میں 18 کی اوسط سے 162 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں، جبکہ ایک اننگز میں پانچ وکٹیں لینے کا کارنامہ وہ 16 مرتبہ انجام دے چکے ہیں۔

یہ مقابلہ کئی حوالوں سے تاریخی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ پہلی مرتبہ لارڈز میں خواتین کا ٹیسٹ میچ منعقد ہو رہا ہے۔ بھارتی سلامی بلے باز اسمرتی مندھانا نے اس میچ کے ساتھ اپنے بین الاقوامی کریئر کا 300واں میچ کھیل کر ایک اہم سنگ میل عبور کیا جبکہ دوسری جانب انگلینڈ کی تجربہ کار بلے باز ٹیمی بیومونٹ اپنے بین الاقوامی کریئر کا آخری میچ کھیل رہی ہیں۔

واحد ٹیسٹ میچ کے اختتام کے بعد زمبابوے اور بنگلہ دیش کے درمیان تین ایک روزہ بین الاقوامی اور تین ٹی-20 بین الاقوامی میچوں کی سیریز کھیلی جائے گی۔ صرف تین روز میں ختم ہونے والے اس مقابلے میں میزبان ٹیم کے اوپنر انوسنٹ کائیا نے اپنی پہلی ٹیسٹ سنچری اسکور کی، جبکہ بنگلہ دیش کے اسپنر تیج الاسلام کی سات وکٹیں بھی ٹیم کو شکست سے نہ بچا سکیں۔

بھارت کے لیے اپنے ڈیبیو ٹیسٹ میں کھیلنے والے مانو سوتھر نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے پہلی اننگز میں 37 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ پرسدھ کرشنا نے 3 وکٹیں اپنے نام کیں۔ مانو سوتھر کی عمدہ کارکردگی نے بھارت کی تاریخی فتح میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس ٹیسٹ میچ میں جہاں بھارتی بلے بازوں نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا وہیں گیندبازوں نے بھی افغانی بلے بازوں کا سنبھلنے کا کوئی موقع نہیں دیا۔ بھارت اس میچ میں بلے بازی اور گیندبازی دونوں شعبوں میں پوری طرح حاوی رہا۔

بھارت کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے مانو سُتھار نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 15.5 اوورز میں صرف 21 رنز دے کر 3 وکٹیں حاصل کیں۔ پرسدھ کرشنا نے 2 وکٹیں اپنے نام کیں اور افغانستان کی بیٹنگ لائن کو دباؤ میں رکھا۔ بھارت اس وقت میچ میں مکمل طور پر حاوی نظر آ رہا ہے اور تیسرے دن افغانستان کو فالو آن یا جلد آؤٹ کرنے کی پوزیشن میں ہے۔