Bharat Express DD Free Dish

Tata Trusts

ٹاٹا ٹرسٹس سے متعلق ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سالانہ جنرل میٹنگ (اے جی ایم) ملتوی ہونے اور اکاؤنٹس و ڈیویڈنڈ کی منظوری نہ ہونے کے باعث سر ڈورابجی ٹاٹا ٹرسٹ (SDTT) اور سر رتن ٹاٹا ٹرسٹ (SRTT) کو ڈیویڈنڈ کی تاخیر سے مالی نقصان ہورہا ہے۔ پوسٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر ڈیویڈنڈ کی ادائیگی میں کم از کم 60 دن کی تاخیر ہوتی ہے تو دونوں ٹرسٹس کو تقریباً 36 کروڑ روپے کے سودی آمدنی کے ممکنہ نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ٹاٹا ٹرسٹ کے سابق ٹرسٹی مہلی مستری نے سر دورابجی ٹاٹا ٹرسٹ (ایس ڈی ٹی ٹی) کے انتظامی معاملات پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ٹرسٹ کو چلانے کے لیے ایک آزاد ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد دوبارہ ٹرسٹی بننا نہیں بلکہ ادارے میں شفافیت اور قانونی نظام کی بحالی ہے۔

ٹاٹا گروپ صرف ایک کاروباری گھرانہ نہیں، بلکہ وہ اعتماد کا نام ہے جسے ہر کوئی سو فیصد خالص مانتا آیا ہے۔ مگر اسی گروپ پر کنٹرول رکھنے والے ٹاٹا ٹرسٹس کے ٹرسٹیوں کے درمیان مفادات کے تصادم نے اس ادارے کو میڈیا کی سرخیوں میں پہنچا دیا ہے۔ اختیار حاصل کرنے کی خواہش سے شروع ہوئے اس تنازع نے صرف صنعتی دنیا ہی نہیں حکومت کو بھی پریشان کر دیا ہے۔ مانا یہ بھی جا رہا ہے کہ اگر معاملہ جلد نہ سلجھا تو حکومت بالواسطہ مداخلت کے ذریعہ یہاں عارضی منتظم بھی تعینات کر سکتی ہے۔