Urdu Conclave 2026

Tata Sons AGM Delay: ٹاٹا سنس کی اے جی ایم میں تاخیر، 2,900 کروڑ کے ڈویڈنڈ اور 33 کروڑکی ممکنہ آمدنی پراٹھے سوال

ٹاٹا ٹرسٹس سے متعلق ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سالانہ جنرل میٹنگ (اے جی ایم) ملتوی ہونے اور اکاؤنٹس و ڈیویڈنڈ کی منظوری نہ ہونے کے باعث سر ڈورابجی ٹاٹا ٹرسٹ (SDTT) اور سر رتن ٹاٹا ٹرسٹ (SRTT) کو ڈیویڈنڈ کی تاخیر سے مالی نقصان ہورہا ہے۔ پوسٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگر ڈیویڈنڈ کی ادائیگی میں کم از کم 60 دن کی تاخیر ہوتی ہے تو دونوں ٹرسٹس کو تقریباً 36 کروڑ روپے کے سودی آمدنی کے ممکنہ نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔

ٹاٹا ٹرسٹس سے متعلق ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سالانہ جنرل میٹنگ (اے جی ایم) ملتوی ہونے اوراکاؤنٹس اورڈیویڈنڈ کی منظوری نہ ہونے کے باعث سر ڈورابجی ٹاٹا ٹرسٹ (ایس ڈی ٹی ٹی) اورسررتن ٹاٹا ٹرسٹ (ایس آرٹی ٹی) کو ڈیویڈنڈ کی تاخیر سے مالی نقصان ہورہا ہے۔ پوسٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ اگرڈیویڈنڈ کی ادائیگی میں کم از کم 60 دن کی تاخیر ہوتی ہے تو دونوں ٹرسٹس کوتقریباً 36 کروڑ روپے کے سودی آمدنی کے ممکنہ نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔ پوسٹ میں ٹاٹا ٹرسٹس کے ٹرسٹیزکے فیصلوں پربھی سوال اٹھایا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اس معاملے میں ہائی کورٹ سے رجوع کرکے اسٹے ختم کرانے کی کوشش کی جانی چاہیے، کیونکہ تاخیرکے دوران ہونے والا ممکنہ مالی نقصان بعد میں واپس نہیں آسکتا۔ تاہم، یہ اعداد و شماراورقانونی موقف پوسٹ میں پیش کیے گئے حساب اوررائے پرمبنی ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق اس مواد میں موجود نہیں ہے۔

2,900 کروڑ روپے کے ڈیویڈنڈ کا حساب

پوسٹ کے مطابق، ایس آرٹی ٹی اورایس ڈی ٹی ٹی کے لیے مجموعی طورپرتقریباً 2,900 کروڑ روپے کا ڈیویڈنڈ اعلان کیا گیا ہے۔ اس رقم کو بنیاد بناتے ہوئے پوسٹ میں 7 فیصد سالانہ شرح سود کے حساب سے روزانہ ہونے والی ممکنہ آمدنی کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ حساب کے مطابق 2,900 کروڑ روپے پر 7 فیصد سالانہ شرح سے تقریباً 203 کروڑ روپے سالانہ سود بنتا ہے۔ اسے 365 دنوں پر تقسیم کرنے پر یومیہ رقم تقریباً 55 سے 56 لاکھ روپے بنتی ہے۔ پوسٹ میں اسے تقریباً 58 لاکھ روپے یومیہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی تخمینے کی بنیاد پر 60 دن کی تاخیر کو تقریباً 36 کروڑ روپے کے ممکنہ سودی نقصان کے برابر بتایا گیا ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ یہ نقصان براہ راست نقد رقم کے ضائع ہونے کا دعویٰ نہیں بلکہ اس ممکنہ سود یا سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تخمینہ ہے جو رقم وقت پر دستیاب ہونے کی صورت میں حاصل ہوسکتی تھی۔ اصل مالی نقصان کا انحصار رقم کی ادائیگی، سرمایہ کاری کی تاریخ، حقیقی شرح منافع اور دیگر متعلقہ شرائط پر ہوگا۔

کم از کم 60 دن کی تاخیر کا دعویٰ

پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹاٹا سنز کی جانب سے اے جی ایم ملتوی ہونے کے بعد نئی میٹنگ کی تاریخ طے کرنے کا اختیار بورڈ پر چھوڑا گیا ہے۔ اس میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ٹاٹا سنز کی اگلی بورڈ میٹنگ ستمبر کے وسط میں ہونے کی توقع ہے اور اس کے بعد نئی میٹنگ کے لیے کم از کم 21 دن کا نوٹس درکار ہوگا۔ اسی حساب کی بنیاد پر پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیویڈنڈ کی ادائیگی میں کم از کم تقریباً 60 دن کی تاخیر ہوسکتی ہے۔ تاہم، اصل تاخیر کا دورانیہ بورڈ کے فیصلے، میٹنگ کی تاریخ اور دیگر قانونی و انتظامی مراحل پر منحصر ہوگا۔

ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا سوال

پوسٹ میں ٹرسٹس کے کردار پر بھی سخت سوال اٹھایا گیا ہے۔ اس میں پوچھا گیا ہے کہ ٹرسٹس ہائی کورٹ سے رجوع کرکے موجودہ اسٹے کو ختم کرانے کی کوشش کیوں نہیں کررہے۔ پوسٹ کے مطابق، اگر ٹرسٹس فوری قانونی کارروائی کریں تو ممکنہ مالی نقصان کو محدود کیا جاسکتا ہے، جبکہ تاخیر کے دوران ضائع ہونے والی ممکنہ سودی آمدنی بعد میں واپس حاصل کرنا مشکل ہوگا۔ اس میں خاص طور پر اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ٹاٹا ٹرسٹس خیراتی سرگرمیوں کے لیے اہم مالی وسائل فراہم کرتے ہیں، اس لیے ان کی آمدنی میں ہونے والا کوئی بھی ممکنہ نقصان بالآخر خیراتی کاموں کے لیے دستیاب وسائل کو متاثر کرسکتا ہے۔

اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ضروری

پوسٹ میں ’’ٹرسٹیز کی جانب سے کارروائی نہ کرنے‘‘ پر سخت تنقید کی گئی ہے، لیکن اس معاملے میں حتمی مالی نقصان یا ٹرسٹس کی قانونی حکمت عملی کے بارے میں فیصلہ کرنے سے پہلے متعلقہ عدالتی احکامات، ٹاٹا سنز کے سرکاری اعلانات اور ڈیویڈنڈ کی ادائیگی سے متعلق دستاویزات کی جانچ ضروری ہے۔ اس وقت دستیاب متن کی بنیاد پر 2,900 کروڑ روپے، 7 فیصد شرح اور 60 دن کی تاخیر کو استعمال کرتے ہوئے تقریباً 36 کروڑ روپے کے ممکنہ سودی نقصان کا حساب پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایک تخمینی حساب ہے، حتمی مالی نقصان کا تصدیق شدہ اعداد و شمار نہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read