Bharat Express DD Free Dish

Tarique Rahman

بنگلہ دیش میں اقتدار کا طویل انتظار ختم ہو گیا ہے۔ 17 سال لندن میں قیام کے بعد وطن واپس آنے والے طارق رحمان ہفتہ کو وزیر اعظم کے عہدے کا حلف لینے جا رہے ہیں۔ طویل جلاوطنی، عدالتی مقدمات اور سیاسی غیر یقینی کے بعد ان کی واپسی کو ملکی سیاست میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

لندن میں 17 سالہ جلاوطنی کے بعد بی این پی لیڈر  طارق رحمان نے انتخابی کامیابی کے ساتھ بنگلہ دیش کی سیاست میں واپسی کی ہے۔ گرنیڈ حملے سے لے کر عمر قید تک کے الزامات اور پھر بریت کے مراحل سے گزرنے والے رحمان اب تنازعات کے سائے میں وزارتِ عظمیٰ کی جانب بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔

بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق، اس وقت خالدہ ضیاء کا جسدِ خاکی مانک میا ایونیو میں رکھا گیا ہے، جہاں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی۔ نمازِ جنازہ میں شرکت کے لیے لوگوں کا ایک بڑا ہجوم جمع ہو رہا ہے۔ صبح تقریباً 11:50 بجے، بنگلہ دیش کے قومی پرچم میں لپٹی ایک فریزر وین گلشن ایونیو سے مانک میا ایونیو پہنچی۔

طارق رحمان 11 ستمبر 2008 سے اپنے اہل خانہ کے ساتھ لندن میں مقیم تھے۔ تقریباً سترہ برس بعد ان کی یہ واپسی براہ راست سیاست میں فعال کردار کی طرف واپسی سمجھی جا رہی ہے، جس سے بنگلہ دیش کی سیاسی فضا میں نئی ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔

خالدہ ضیاء کی پارٹی نے عدالت کے فیصلے کا استقبال کیا جبکہ شیخ حسینہ کی عوامی لیگ نے اس فیصلے پرمایوسی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش کے لوگ ہی حملوں کے لئے ذمہ دارلوگوں پرمقدمہ چلائیں گے۔