Bharat Express DD Free Dish

Swami Prasad Maurya

دیپک کمار نے اپنی شادی کے بارے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی شادی سنگھ مترا موریا کے ساتھ 3 جنوری 2019 کو سوامی پرساد موریا کے گھر ہوئی تھی۔

تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن کے بیٹے اور تمل ناڈو حکومت میں وزیر ادھیانیدھی اسٹالن نے سناتن دھرم پر متنازعہ تبصرہ کیا تھا۔ جس کے بعد سیاسی الزامات اور جوابی الزامات کا دور شروع ہو گیا

سوامی پرساد موریہ نے تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ کے بیٹے ادھیانیدھی اسٹالن کی طرف سے دیے گئے سناتن دھرم والے بیان پر کہا کہ بی جے پی ہر چیز میں مارکیٹنگ کرتی ہے۔ سناتن میں بھی مارکیٹنگ کی جارہی ہے اور لوگوں کو گمراہ کیا جارہا ہے

ایس پی لیڈر سوامی پرساد موریہ نے اپنے آفیشل ٹویٹر ہینڈل سے ٹویٹ کیا کہ، “نچلی عدالت کی جانب سے راہل گاندھی کی سزا اور رکنیت کے خاتمے پر روک لگانے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہوں۔

ہر مسجد میں مندر تلاش کرنے  کا سلسلہ  بی جے پی کو مہنگا پڑے گا۔ایسا کریں گے تو لو گ ہرمندر میں بدھ مذہب کی خانقاہیں تلاشیں گے۔ موریہ نے کہا کہ تاریخی شواہد، حقائق اور گواہ اس بات کا پختہ ثبوت ہیں کہ تمام ہندو ں کے بڑی عبادت گاہیں ہیں وہ  سب بدھ خانقاہوں پر بنائی گئی ہیں۔

ایس پی لیڈر نے دعویٰ کیا کہ ملک میں زیادہ تر ہندو مندر اور تیرتھ استھل بودھ مٹھوں کو منہدم کر کے بنائے گئے تھے۔

سماج وادی پارٹی کے لیڈر سوامی پرساد موریہ نے اس وائرل ویڈیو کو لے کر بی جے پی حکومت پر سخت نشانہ سادھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کیا یہ رام راجیہ کا ننگا سچ ہے؟منی پور میں ایک کمیونٹی کی خواتین کو برہنہ کرکے ان کے ساتھ جو غیر انسانی اور وحشیانہ سلوک کیا گیا وہ انتہائی شرمناک، تکلیف دہ اور قابل مذمت ہے۔ کیا یہی ہے رام راجیہ کا ننگا سچ ہے؟

توانائی اور شہری ترقی کے وزیر نے کہا، "اگر آپ پی ایم مودی اور سی ایم یوگی کی اس حکمت عملی سے پریشان ہیں، کہ وہ کس طرح پسماندہ طبقے کے لوگوں کے ساتھ چل رہے ہیں، کیسے وہ دلت طبقے کے لوگوں کے ساتھ آ رہے ہیں۔

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا تھا، ’’بھگوان نے ہمیشہ کہا ہے کہ میرے لیے سب ایک ہیں۔ ان میں ذات کا کوئی کردار نہیں ہے، لیکن پنڈتوں نے ایک زمرہ بنایا، یہ غلط تھا۔

سوامی پرساد موریہ نے کہا تھا، ''ان ذاتوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی جا رہی ہے۔ اسی طرح رام چرت مانس کی ایک چوپائی کہتی ہے کہ عورتوں کو سزا ملنی چاہیے۔