Bharat Express DD Free Dish

Sugar Price

ملک بھر میں چینی کی اوسط خوردہ قیمت مسلسل چوتھے دن 60 روپے فی کلو سے نیچے رہی۔ حکومت کی جانب سے درآمد اور ذخیرہ کرنے کی حد سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات کا اثر اب نظر آنے لگا ہے۔

ملک میں خوردہ مہنگائی کی شرح جولائی کے 4.45 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 4.82 فیصد ہوگئی۔ کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے نے مہنگائی پر دباؤ بڑھایا، جبکہ غذائی مہنگائی بھی جولائی کے 5.52 فیصد سے بڑھ کر اگست میں 5.95 فیصد ہوگئی۔

چینی کی بڑھتی قیمتوں پر صارفین کی تشویش دور کرتے ہوئے انڈین شوگر اینڈ ملز ایسوسی ایشن نے کہا کہ ملک میں چینی کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور آنے والے ہفتوں میں قیمتوں میں نرمی آنے کی امید ہے

ای20 پیٹرول سے متعلق خدشات کے باعث بھارت میں زیادہ تر موٹر گاڑی سوار پریمیم فیول کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مارچ سے ہائی آکٹین پیٹرول کی فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

قیمتوں میں اس تیزی کے بعد یہ سوال بھی اٹھنے لگا کہ کہیں حکومت کی ایتھنول پالیسی اس کی وجہ تو نہیں۔ تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کے پیچھے بنیادی وجہ ایتھنول نہیں بلکہ چینی کی پیداوار میں کمی، ذخیرہ اندوزی اور عالمی مارکیٹ میں بڑھتی قیمتیں ہیں۔

گزشتہ دو موسموں میں گنے کی FRP قیمت میں 11 فیصد اضافہ ہونے کے باوجود ایتھنول کی قیمتوں میں بڑی حد تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

سال 2021-22 میں ریکارڈ 11 ملین ٹن چینی فروخت کرنے کے بعد، بھارت نے سال 2022-23 میں چینی کی برآمد پر پابندی عائد کر دی تاکہ ملک میں مقامی مارکیٹ میں چینی کی سپلائی بلا تعطل رہے اور قیمتیں مستحکم ہو سکیں۔