Bharat Express DD Free Dish

Sugar Prices Will Come Down in a Few Weeks:ملک میں چینی کی کوئی کمی نہیں،چندہفتوں میں قیمتیں کم ہوں گی:آئی ایس ایم اے

چینی کی بڑھتی قیمتوں پر صارفین کی تشویش دور کرتے ہوئے انڈین شوگر اینڈ ملز ایسوسی ایشن نے کہا کہ ملک میں چینی کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور آنے والے ہفتوں میں قیمتوں میں نرمی آنے کی امید ہے

نئی دہلی: ملک میں چینی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے درمیان صارفین کی تشویش دور کرتے ہوئے انڈین شوگر اینڈ ملز ایسوسی ایشن (آئی ایس ایم اے) نے پیر کو کہا کہ بھارت میں چینی کی کوئی کمی نہیں ہے اور آئندہ چند ہفتوں میں اس کی قیمتوں میں کمی دیکھی جا سکتی ہے۔ صنعتی تنظیم کے مطابق حالیہ مہنگائی بنیادی طور پر مارکیٹ کے رجحان، محدود مدت کے لیے سپلائی سے متعلق اندازوں اور عالمی حالات کا نتیجہ ہے، نہ کہ چینی کی حقیقی قلت کا۔

گزشتہ 15 سے 20 دن میں کیوں بڑھی قیمت؟

آئی ایس ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل دیپک بَلّانی نے آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 15 سے 20 دنوں کے دوران چینی کی قیمتوں میں اضافے کے پیچھے کئی عوامل ہیں۔ ان کے مطابق مارکیٹ میں قیاس آرائی اور گھبراہٹ میں کی گئی خریداری نے قیمتوں کو سہارا دیا۔ اس کے علاوہ اتر پردیش میں گنے کی ریڈ روٹ بیماری اور وقت سے پہلے پھول آنے کے باعث گزشتہ سال پیداوار توقع سے کم رہی، جس سے مارکیٹ کا رجحان متاثر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر چینی کی دستیابی میں کمی کے سبب بین الاقوامی بازار میں بھی قیمتیں بڑھی ہیں، جس کا اثر بھارتی مارکیٹ پر پڑا ہے۔

ملک میں چینی کا کافی ذخیرہ موجود

بَلّانی نے واضح کیا کہ موجودہ شوگر سیزن میں ملک میں چینی کی مجموعی پیداوار تقریباً 279 لاکھ ٹن رہنے کا اندازہ ہے۔ جنوبی کرناٹک اور تمل ناڈو میں جاری خصوصی کرشنگ سیزن سے بھی پیداوار میں اضافی تعاون مل رہا ہے۔ ان کے مطابق 30 ستمبر کو ختم ہونے والے موجودہ سیزن تک ملک میں چینی کی مناسب مقدار دستیاب رہے گی اور مارکیٹ کی صورتحال میں جلد بہتری آنے کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ چینی کی قیمتوں میں پہلے ہی کمی کے اشارے نظر آنے لگے ہیں اور امید ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں اس کا اثر خوردہ بازار پر بھی پڑے گا، جس سے صارفین کو راحت ملے گی۔

نئے سیزن تک بھی رہے گا مناسب اسٹاک

آئی ایس ایم اے کے صدر نیرج شرگاؤںکر نے بھی کہا کہ ملک میں چینی کا وافر ذخیرہ موجود ہے اور آئندہ طلب پوری کرنے میں کسی دشواری کا امکان نہیں ہے۔ ان کے مطابق نئے سیزن کے آغاز تک بھی ملک کے پاس کافی اسٹاک موجود رہے گا، جس سے مارکیٹ میں سپلائی برقرار رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ 26-2025 سیزن میں خالص چینی کی پیداوار تقریباً 279 لاکھ ٹن رہنے کا اندازہ ہے، جبکہ سیزن کے اختتام پر تقریباً 35 لاکھ ٹن کا کلوزنگ اسٹاک موجود رہنے کی امید ہے۔ ان کے مطابق یہ ملکی طلب کے مقابلے میں مضبوط بفر اسٹاک ہے، اس لیے سپلائی کو لے کر کسی تشویش کی ضرورت نہیں۔

ایتھنول پروگرام کو قیمتوں میں اضافے کی وجہ ماننے سے انکار

آئی ایس ایم اے کے نائب صدر مادھو بی سری رام نے چینی کی قیمتوں میں اضافے کے لیے ایتھنول پروگرام کو ذمہ دار قرار دینے سے اختلاف کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب ایتھنول بلینڈنگ پروگرام شروع ہوا تھا، اس وقت مجموعی ایتھنول سپلائی کا تقریباً 80 فیصد حصہ چینی صنعت سے آتا تھا، لیکن اب یہ حصہ کم ہو کر تقریباً 28 فیصد رہ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی میں پہلی ترجیح گھریلو صارفین کے لیے چینی کی دستیابی، دوسری ترجیح ایتھنول بلینڈنگ پروگرام اور تیسری ترجیح برآمدات ہیں۔ اس لیے ایتھنول پیداوار کی وجہ سے چینی کی قلت کا دعویٰ درست نہیں ہے۔ آئی ایس ایم اے کے مطابق ملوں اور گوداموں میں چینی کا مناسب اسٹاک موجود ہے۔ تنظیم نے کہا کہ قلت کا جو ماحول بنایا جا رہا ہے، وہ زمینی حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتا اور حکومتی اقدامات کا اثر آئندہ چند ہفتوں میں مارکیٹ میں واضح طور پر نظر آنے کی امید ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read