Bharat Express DD Free Dish

State Bank of India

یوزڑ کو ہونے والی پریشانی کم کرنے کے لیے مرکزی حکومت نے سرکاری شعبے کے بینکوں کو اتوار، 27 ستمبر کو بھی کھلا رکھنے کی ہدایت دی ہے، تاکہ لوگ ہڑتال شروع ہونے سے پہلے اپنے ضروری بینکنگ کام مکمل کرسکیں۔

وزارتِ خزانہ کے دفتر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اس کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے ایس بی آئی کے چیئرمین سی ایس شیٹی سے مالی سال 2025-26 کے لیے 8,813 کروڑ روپے کا منافع وصول کیا ہے۔ یہ منافع سرکاری شعبے کے اس بڑے بینک کی مضبوط مالی کارکردگی کی عکاسی کرتا ہے۔

حکام کے مطابق نئی نظام کے تحت طلبہ کو ادائیگی کے دوران پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ اور آسان تجربہ حاصل ہوگا۔ پیمنٹ فیل ہونے کے امکانات کم ہوں گے، ٹرانزیکشن کی رفتار بہتر ہوگی اور اگر کسی طالب علم سے اضافی رقم کٹ جائے تو اسے خودکار طریقے سے واپس کر دیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سرور پر بوجھ بڑھنے کی صورت میں بھی پورٹل کی کارکردگی متاثر نہیں ہوگی۔

پولیس نے بتایا کہ دونوں کی گرفتاری سے دو دیگر ای ایف آئی آر کے معاملات بھی حل ہو گئے ہیں۔ فی الحال پولیس مزید تحقیقات کر رہی ہے اور یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان ملزمان نے اب تک کتنے لوگوں کو اسی طریقے سے اپنا شکار بنایا ہے۔

27 جنوری کو بھی بینکنگ یونینوں نے فائیو ڈے ورکنگ کے مطالبے کو لے کر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ اس دوران بھی کئی سرکاری بینکوں نے پہلے ہی اسٹاک ایکسچینج کو آگاہ کر دیا تھا کہ ہڑتال کے باعث بینکنگ خدمات متاثر ہو سکتی ہیں۔

یونائیٹڈ فورم آف بینک یونینز (یو ایف بی یو) نے اس ملک گیر ہڑتال کی کال دی ہے۔ یہ تنظیم نو بینک یونینوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے، جو سرکاری بینکوں کے افسران اور ملازمین کی نمائندگی کرتا ہے۔ یہ فیصلہ 23 جنوری کو چیف لیبر کمشنر کے ساتھ ہونے والی میٹنگ میں کسی حل کے نہ نکلنے کے بعد کیا گیا۔

دہلی ہائی کورٹ نے ہیرا تاجر نیرو مودی سے جڑے بینک آف انڈیا معاملے میں برطانیہ کی انگلینڈ اینڈ ویلز سپریم کورٹ کی درخواست پر سخت موقف اختیار کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کر دیا ہے اور اس معاملے میں جواب طلب کیا ہے۔

مارچ 2025 کو ختم سہ ماہی میں ایس بی آئی کا خالص منافع 9.93 فیصد کم ہو کر 18643 کروڑ رہا، مگر سالانہ منافع 16.08 فیصد بڑھ کر 70901 کروڑ تک پہنچ گیا۔ جبکہ خالص این پی اے گھٹ کر 0.47 فیصد رہ گیا

مالی سال 25 کے پہلے نو مہینوں (اپریل تا دسمبر 2024) میں ہندوستانی کمپنیوں کی جانب سے سرمایہ کاری کے اعلانات میں قابل ذکر اضافہ دیکھا گیا ہے۔

ہندوستان ہر سال تقریباً 227 کلوگرام پھل اور سبزیاں پیدا کرتا ہے، جو کہ سالانہ 146 کلوگرام فی شخص کی عمومی سفارش سے زیادہ ہے۔