Bharat Express DD Free Dish

stampede

وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے وزیر اعظم دفتر نے ایکس پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ بہار کے لکھی سرائے میں بھگدڑ کے باعث ہونے والی اموات سے وہ بہت غمزدہ ہیں۔ پی ایم او کے مطابق، اس دکھ کی گھڑی میں وزیر اعظم کی ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ پیغام میں زخمیوں کی جلد صحت یابی کی پرارتھنا بھی کی گئی۔

انتظامیہ کے مطابق، جس وقت یہ حادثہ پیش آیا، اس وقت بجلی کی سپلائی بند تھی۔ بجلی کے تار کو بھی کور کیا گیا تھا، اس لیے موقع پر کرنٹ پھیلنے کی بات درست نہیں تھی۔ تاہم، بجلی کے کھمبے کے گرنے اور اس کے بعد پھیلنے والی افواہ نے حالات کو انتہائی سنگین بنا دیا اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں موجود عقیدت مندوں کے درمیان بھگدڑ مچ گئی۔حادثے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران فوری طور پر موقع پر پہنچے۔

آندھرا پردیش کے شری کاکولم ضلع میں واقع وینکٹیشور سوامی مندر میں بھگدڑ مچ گئی، جس کے نتیجے میں 9 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہو گئے۔ ہلاک شدگان میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔ وزیراعظم نے مرنے والوں کے لواحقین کو دو دو لاکھ روپے اور زخمیوں کو پچاس ہزار روپے کی مالی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

یہ حادثہ کارتک کے مہینے میں ایکادشی کے موقع پر پیش آیا، جب عقیدت مندوں کا ایک بڑا ہجوم مندر دیکھنے کے لیے جمع تھا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مندر کے احاطے کے داخلی دروازے کے قریب اچانک بھیڑ بڑھ گئی ،جس سے خوف و ہراس پھیل گیا

بھگدڑ شام تقریباً ساڑھے سات بجے اس وقت ہوئی جب وجے اپنے حامیوں سے خطاب کر رہے تھے۔ دوپہر سے ہی جلسہ گاہ میں ہجوم جمع ہو رہا تھا۔ جب کچھ لوگ بے ہوش ہو کر گرنے لگے تو افراتفری مچ گئی اور بھگدڑ پھیل گئی۔وجے نے صورتحال خراب ہوتے ہی اپنی تقریر روک دی

وجے جب جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے تبھی بھیڑ مسلسل بڑھتی گئی۔ گرمی اور دھکم پیل کے درمیان کئی کارکن اور بچے بے ہوش ہوگئے۔ صورتحال دیکھ کر وجے نے فوراً تقریر روک دی اور انتخابی بس سے پانی کی بوتلیں پھینک کر لوگوں کو راحت دینے کی کوشش کی۔ انہوں نے ایمبولینس کے لیے راستہ بنانے کی بھی اپیل کی۔

حادثے کے بعد ریاستی حکومت حرکت میں آگئی۔ وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کر کے واقعے کو تشویشناک قرار دیا اور عام لوگوں سے ڈاکٹروں اور پولیس کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل کی۔

وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے بارہ بنکی کے اوسانیشور مندر میں بجلی کے تار کے ٹوٹنے سے ہوئے حادثے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے جاں بحق ہونے والے دونوں عقیدت مندوں کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بھگدڑ کی اصل وجہ کیا تھی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

یہ واقعہ ہفتہ کی صبح پیش آیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق اس واقعے کی بڑی وجہ بھیڑ بھاڑ ہو سکتی ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق ہجوم کے ایک حصے کے کنٹرول کھونے کے بعد صورتحال مزید بگڑ گئی