Bharat Express DD Free Dish

South Korea

2020 میں COVID-19 وبائی مرض کی وجہ سے بین الاقوامی شادیوں کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی تھی، جو پچھلے سال کے لگ بھگ 24,000 سے کم ہوکر 15,000 کے قریب اور 2021 میں مزید 13,000 کے قریب رہ گئی تھی۔ لیکن 2022 میں یہ تعداد دوبارہ بڑھ کر 16,666 ہو گئی۔

بھارت، مینلینڈ چین اور جاپان نے 2024 میں دفتری جگہ کی طلب کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ لیا۔ H2 2024 کے دوران، آسٹریلیا میں لیزنگ میں کئی گنا اضافہ ہوا، جب کہ ہندوستان اور جاپان نے بالترتیب 11فیصد اور 5فیصد کی قابل ذکر سالانہ ترقی دیکھی۔

صدر یون نے 3 دسمبر کی رات کو جنوبی کوریا میں ایمرجنسی مارشل لاء کا اعلان کیا تھا لیکن پارلیمنٹ نے اس کے خلاف ووٹ دینے کے بعد اسے منسوخ کر دیا تھا۔ مارشل لاء صرف چند گھنٹے ہی رہا۔ حالانکہ چند گھنٹوں کے لیے لگائے گئے مارشل لا نے ملکی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔

جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر نے عدالت کے مواخذہ صدر یون سک یول کو نظربندی سے رہا کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ اس سے امید پیدا ہوئی کہ یون جلد دفتر پر واپس آجائیں گے۔ ایک بیان میں، صدر کے دفتر نے کہا کہ وہ ’صدر کی گرفتاری کو منسوخ کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتا ہے۔‘

بدھ کے روز ٹرمپ نے کانگریس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈیموکریٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا جو ان کے ریمارکس کی تعریف کرنے سے انکار کر رہے تھے۔ ٹرمپ نے اسے ’بہت افسوسناک‘ قرار دیا اور کہا، ’’میں اپنے سامنے ڈیموکریٹس کو دیکھتا ہوں، اور مجھے احساس ہوتا ہے کہ میں ان کو خوش کرنے یا انہیں کھڑا کرنے یا مسکرانے یا تالیاں بجانے کے لیے کچھ نہیں کہہ سکتا۔ میں کچھ نہیں کر سکتا۔

یون کو گاڑی سے اترتے اور پوچھ گچھ کے لیے دفتر میں داخل ہوتے دیکھا گیا۔ توقع ہے کہ تفتیش کار 48 گھنٹوں کے اندر انہیں باضابطہ طور پر گرفتار کرنے کے لیے وارنٹ طلب کریں گے۔ یون پر بغاوت اور طاقت کے غلط استعمال کا الزام ہے۔

مواخذے کا سامنا کرنے والے صدر یون سک یول پر اپنے اختیارات کے غیر قانونی استعمال اور مارشل لاء لگانے کی کوشش کرنے کا الزام ہے جس پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ مواخذے کے بعد سے ملک میں عدم استحکام کا ماحول تھا جو اب ان کی گرفتاری سے مزید سنگین ہو گیا ہے۔

مواخذے کی منظوری کے بعد صدر یون سک یول کو ان کے عہدے سے معطل کر دیا گیا۔ ان کی جگہ ہان ڈک سو نے قائم مقام صدر کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔

دوسری تجویز میں پچھلی تجویز کے مقابلے میں کچھ ترامیم کی گئیں۔ اس میں یون کے خلاف کچھ الزامات کو ہٹا دیا گیا، لیکن دیگر الزامات کو جوڑ دیا گیا، جس میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ انہوں نے مارشل لاء لاگو ہونے کے دوران اراکین اسمبلی کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔

جنوبی کوریا کی مرکزی حزب اختلاف ڈیموکریٹک پارٹی (ڈی پی) بھی یون کے خلاف مارشل لا لگانے کی ناکام کوشش پر مواخذے کی نئی تحریک دائر کرے گی۔