Bharat Express DD Free Dish

Sonam Wangchuk

عامر خان نے سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال کے بارے میں کہا کہ "ہم سب ان کی صحت اور زندگی کے لیے فکر مند ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ سب کچھ خیریت سے ہو اور وہ جلد اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دیں۔"

جنتر منتر پر ملک کی بیٹی اور طلبہ کے مستقبل کے لیے گزشتہ 19 دنوں سے بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہے۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ آگے آئیں، اس بہن کی آواز بنیں اور اسے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

کمیٹی نے کہا کہ وانگچک کے احتجاج نے نیٹ (NEET) امتحان اور ملک کے تعلیمی نظام سے متعلق اہم مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کیا ہے۔ قرارداد میں سونم وانگچک کی اختراعات، تعلیمی اداروں کی تعمیر اور عوامی خدمات میں ان کی زندگی بھر کی خدمات کو نوجوانوں اور معاشرے کے لیے مشعلِ راہ قرار دیا گیا۔

شاداب چوہان نے کہا کہ اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ سونم وانگچک کو اپوزیشن کی کتنی حمایت حاصل ہے، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ ایک سماجی کارکن اور ماہرِ تعلیم حکومت کے سامنے اپنے دلائل اور تجاویز پیش کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم کو چاہیے کہ وہ ان سے ملاقات کریں اور ان کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کریں۔

 59 سالہ سونم وانگچک کی صحت پر ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان کا وزن مزید 400 گرام کم ہوا، جب کہ بھوک ہڑتال شروع ہونے کے بعد اب تک ان کا تقریباً 8.9 کلوگرام وزن گھٹ چکا ہے۔ اس وقت ان کا وزن 57.15 کلوگرام ریکارڈ کیا گیا ہے۔ان کی طبی نگرانی کر رہے ڈاکٹر اشوک لامبا نے بتایا کہ سونم وانگچک کا وزن مجموعی طور پر 9 کلوگرام سے زیادہ کم ہو چکا ہے،

یاد رہے کہ سونم وانگچک کو 26 ستمبر 2025 کو قومی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا اور بعد میں راجستھان کی جودھپور سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔ اس سے قبل 24 ستمبر 2025 کو لداخ میں ان کے احتجاج کے دوران حالات کشیدہ ہو گئے تھے۔ ان واقعات میں چار افراد کی موت اور تقریباً 90 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں جس کے بعد انتظامیہ نے سخت کارروائی کرتے ہوئے وانگچک کو حراست میں لے لیا تھا۔

مرکزی حکومت نے سماجی کارکن سونم وانگچک کو قومی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں سخت موقف اختیار کیا ہے۔ لداخ تشدد معاملے میں سونم وانگچک کی گرفتاری کے خلاف دائر عرضی پر سماعت کے دوران مرکز نے کہا کہ وانگچک کے بیانات اور سرگرمیاں ملک کی یکجہتی کے لیے نقصان دہ ہیں۔

معروف ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی حراست کے معاملے نے ایک بار پھر سیاسی اور قانونی حلقوں میں بحث کو تیز کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ 11 جنوری کو سونم وانگچُک کی اہلیہ گیتانجلی آنگمو کی جانب سے دائر عرضی پر سماعت کرے گا۔ اس کے ساتھ ہی گیتانجلی نے صدرِ جمہوریہ دروپدی مرمو کو ایک جذباتی خط لکھ کر اپنے شوہر کی غیر مشروط رہائی کی اپیل کی ہے۔

سونم وانگ چک کو 24 ستمبر کو لیہہ میں ہوئی پرتشدد جھڑپوں کے بعد 26 ستمبر کو نیشنل سیکورٹی ایکٹ (NSA) کے تحت گرفتار کر کے راجستھان کی جودھپور جیل بھیجا گیا تھا۔ وہ اس وقت سے حراست میں ہیں۔

24 ستمبر کو لیہ میں ہونے والے احتجاج کے دوران حالات بگڑ گئے تھے، مشتعل ہجوم نے بی جے پی کے دفتر کو نذرِ آتش کر دیا تھا۔ پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔