Bharat Express DD Free Dish

Sonam Wangchuk

سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے مظاہرین کے خلاف انتقامی کارروائی نہ کرنے کی ضمانت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج میں شامل نوجوانوں کے خلاف ’’سزا دینے یا بدلے کی کارروائی‘‘ نہیں ہونی چاہیے۔ یقین دہانی نہ ملنے تک غیر معینہ بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان۔

گیتانجلی انگمو نے الزام لگایا کہ پابندیوں اور آمد و رفت میں رکاوٹوں کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ احتجاج میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک کو دبانے کی کوشش کرنے کے بجائے اسے ایک بیداری کی گھنٹی کے طور پر دیکھے۔ انہوں نے کہا ’’حکومت نے آج میٹرو، اوبر اور دیگر ذرائع کو بند کرنے کی کوشش کی، اس کے باوجود میں ڈیڑھ کلومیٹر پیدل چل کر یہاں پہنچی اور دیکھا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں۔

ادھو ٹھاکرے نے اتوار کو سونم وانگچک کو جنتر منتر پر جاری احتجاجی مقام سے صفدرجنگ اسپتال منتقل کیے جانے کے معاملے پر بی جے پی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ’خاک میں ملا دینا چاہیے‘۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے بھی سونم وانگچک کو احتجاجی مقام سے صفدرجنگ اسپتال منتقل کیے جانے پر بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

سونم وانگچک کی اہلیہ نے مرکز پر لگایا الزام لگاتے ہوئے کہا کہحکومت کو خدشہ تھا کہ مارچ میں ملک بھر سے لاکھوں لوگ شامل ہو جائیں گے۔ دہلی ہائی کورٹ نے فوری راحت دینے سے کیا انکار۔ وانگچک کو صفدرجنگ اسپتال سے منتقل کرنے کی درخواست مسترد۔ عدالت نے کہا ہے کہ وانگچک کو غیر قانونی طور پر قید رکھنے کا کوئی ثبوت نہیں۔

کیجریوال نے کہا کہ سونم وانگچک اور ان کے ساتھی نوجوانوں کے مستقبل اور تعلیم سے متعلق اہم مسائل اٹھا رہے ہیں، اس لیے حکومت کو ان کے مطالبات سننے چاہئیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جمہوری انداز میں اپنی آواز بلند کریں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق معاملات پر متحد ہوں۔

کانگریس لیڈران پون کھیڑا سمیت متعدد اپوزیشن لیڈران، جن میں مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، این سی پی (شرد پوار گروپ) کے سربراہ شرد پوار اور شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت شامل ہیں، نے بھی سونم وانگچک کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کی۔

ان دنوں دہلی کا جنتر منتر ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ 1990 کی دہائی سے پہلے تک دہلی کا بوٹ کلب احتجاجی تحریکوں کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا، لیکن 1988 کی کسان تحریک کے بعد وہاں احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے بعد جنتر منتر کو دہلی کا باضابطہ احتجاجی مقام مقرر کیا گیا، جو وقت گزرنے کے ساتھ ملک بھر کی مختلف تحریکوں اور احتجاجی مظاہروں کا سب سے اہم مرکز بن گیا۔

سی جے پی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے الزام عائد کیا ہے کہ حراست کے دوران دہلی پولیس نے ان کے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ کی۔ ان الزامات کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی پولیس کی کارروائی پر سوالات اٹھائے ہیں اور حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ابھیجیت دیپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنتر منتر پر ہی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے اور سونم وانگچک کی تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا۔

سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیے جانے کے دوران احتجاجی مقام پر موجود مظاہرین نے شدید مخالفت کی۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان معمولی دھکم پیل بھی ہوئی اور حکومت و پولیس انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ تاہم پولیس نے سونم وانگچک کو ہجوم کے درمیان سے محفوظ طریقے سے ایمبولینس تک پہنچایا اور انہیں اسپتال منتقل کر دیا۔

 دیپکے نے حکومت کے رویے پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سونم وانگچک کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے لداخ سے متعلق مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مطالبات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران وہ جذباتی ہو گئے اور ان کی آواز بھرّا گئی، جس کے بعد وہ اسٹیج پر ہی رونے لگے۔