Sonam Wangchuk Hunger Strike: سونم وانگچک بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے تیار، حکومت کے سامنے رکھی یہ بڑی شرط
سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے مظاہرین کے خلاف انتقامی کارروائی نہ کرنے کی ضمانت کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاج میں شامل نوجوانوں کے خلاف ’’سزا دینے یا بدلے کی کارروائی‘‘ نہیں ہونی چاہیے۔ یقین دہانی نہ ملنے تک غیر معینہ بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا اعلان۔
Govt has Failed Miserably: ’’اس تحریک نے پورے ملک کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی‘‘ سونم وانگچک کی اہلیہ کا حکومت پر’’مکمل ناکامی‘‘ کا الزام
گیتانجلی انگمو نے الزام لگایا کہ پابندیوں اور آمد و رفت میں رکاوٹوں کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ احتجاج میں شامل ہوئے ہیں۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس تحریک کو دبانے کی کوشش کرنے کے بجائے اسے ایک بیداری کی گھنٹی کے طور پر دیکھے۔ انہوں نے کہا ’’حکومت نے آج میٹرو، اوبر اور دیگر ذرائع کو بند کرنے کی کوشش کی، اس کے باوجود میں ڈیڑھ کلومیٹر پیدل چل کر یہاں پہنچی اور دیکھا کہ اتنی بڑی تعداد میں لوگ موجود ہیں۔
Why No Dialogue With Wangchuk: ’’وانگچک سے بات چیت کیوں نہیں کرتی حکومت؟ آپ پردے کے پیچھے سچ نہیں چھپا سکتے‘‘ ادھو ٹھاکرے کی بی جے پی پر سخت تنقید
ادھو ٹھاکرے نے اتوار کو سونم وانگچک کو جنتر منتر پر جاری احتجاجی مقام سے صفدرجنگ اسپتال منتقل کیے جانے کے معاملے پر بی جے پی حکومت پر شدید حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو ’خاک میں ملا دینا چاہیے‘۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے رکن اسمبلی آدتیہ ٹھاکرے نے بھی سونم وانگچک کو احتجاجی مقام سے صفدرجنگ اسپتال منتقل کیے جانے پر بی جے پی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
Gitanjali Criticizes The Government: ’’صحت کی فکر محض ڈرامہ‘‘ گیتانجلی انگمو کا الزام، حکومت کو سونم وانگچک کے 20 جولائی کے مارچ میں شامل ہونے کا خوف
سونم وانگچک کی اہلیہ نے مرکز پر لگایا الزام لگاتے ہوئے کہا کہحکومت کو خدشہ تھا کہ مارچ میں ملک بھر سے لاکھوں لوگ شامل ہو جائیں گے۔ دہلی ہائی کورٹ نے فوری راحت دینے سے کیا انکار۔ وانگچک کو صفدرجنگ اسپتال سے منتقل کرنے کی درخواست مسترد۔ عدالت نے کہا ہے کہ وانگچک کو غیر قانونی طور پر قید رکھنے کا کوئی ثبوت نہیں۔
Sonam Wangchuk’s wife: سونم وانگچک کی اہلیہ کی نے دہلی ہائی کورٹ سے کیا رجوع، صفدرجنگ اسپتال میں داخلے کو ‘غیر قانونی حراست’ قرار دیا
کیجریوال نے کہا کہ سونم وانگچک اور ان کے ساتھی نوجوانوں کے مستقبل اور تعلیم سے متعلق اہم مسائل اٹھا رہے ہیں، اس لیے حکومت کو ان کے مطالبات سننے چاہئیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جمہوری انداز میں اپنی آواز بلند کریں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق معاملات پر متحد ہوں۔
Rahul Gandhi Targets Central Government: سونم وانگچک کو اسپتال میں داخل کیے جانے پر راہل گاندھی کا مرکز پر حملہ، حکومت پر لگایا جھوٹ اور جبر کا الزام
کانگریس لیڈران پون کھیڑا سمیت متعدد اپوزیشن لیڈران، جن میں مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی، این سی پی (شرد پوار گروپ) کے سربراہ شرد پوار اور شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت شامل ہیں، نے بھی سونم وانگچک کے خلاف پولیس کارروائی کی مذمت کی۔
Jantar Mantar: جانیے جنتر منتر کیسے بنا ملک میں احتجاجی تحریکوں کا سب سے بڑا مرکز اور ہر بڑا مظاہرہ آخر یہیں کیوں ہوتا ہے؟
ان دنوں دہلی کا جنتر منتر ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ 1990 کی دہائی سے پہلے تک دہلی کا بوٹ کلب احتجاجی تحریکوں کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا، لیکن 1988 کی کسان تحریک کے بعد وہاں احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے بعد جنتر منتر کو دہلی کا باضابطہ احتجاجی مقام مقرر کیا گیا، جو وقت گزرنے کے ساتھ ملک بھر کی مختلف تحریکوں اور احتجاجی مظاہروں کا سب سے اہم مرکز بن گیا۔
Sonam Wangchuk Hunger Strike: سونم وانگچک معاملہ پر پریانکا چترویدی نے حکومت کو نشانہ بنایا، کہا- عوام کبھی معاف نہیں کرے گی
سی جے پی کے سربراہ ابھیجیت دیپکے نے الزام عائد کیا ہے کہ حراست کے دوران دہلی پولیس نے ان کے ساتھ بدسلوکی اور مارپیٹ کی۔ ان الزامات کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے بھی پولیس کی کارروائی پر سوالات اٹھائے ہیں اور حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔ابھیجیت دیپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنتر منتر پر ہی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال جاری رکھیں گے اور سونم وانگچک کی تحریک کو آگے بڑھایا جائے گا۔
Gitanjali J Angmo: میری اجازت کے بغیر سونم وانگچک کا کوئی علاج نہ کیا جائے!اہلیہ گیتانجلی انگمو کامطالبہ
سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیے جانے کے دوران احتجاجی مقام پر موجود مظاہرین نے شدید مخالفت کی۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان معمولی دھکم پیل بھی ہوئی اور حکومت و پولیس انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ تاہم پولیس نے سونم وانگچک کو ہجوم کے درمیان سے محفوظ طریقے سے ایمبولینس تک پہنچایا اور انہیں اسپتال منتقل کر دیا۔
Abhijeet Dipke: ابھیجیت دیپکے بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے، کہا تحریک ختم نہیں ہوئی، 20 جولائی کو ‘پارلیمنٹ مارچ’ ہوگا، ویڈیو وائرل
دیپکے نے حکومت کے رویے پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سونم وانگچک کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے لداخ سے متعلق مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مطالبات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران وہ جذباتی ہو گئے اور ان کی آواز بھرّا گئی، جس کے بعد وہ اسٹیج پر ہی رونے لگے۔





