Bharat Express DD Free Dish

Sharjeel Imam

سپریم کورٹ نے 2020 کے دہلی فسادات سے جڑے مبینہ سازش کے معاملے میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے اسٹوڈنٹ ایکٹوسٹ عمر خالد اور شرجیل امام کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی ہیں، جبکہ اسی کیس میں نامزد پانچ دیگر ملزمان کو ضمانت دے دی گئی ہے۔

دہلی فسادات اور یو اے پی اے کے مقدمات میں گرفتار عمر خالد، شرجیل امام، گل فشاں فاطمہ وغیرہ ملزمان کو اب تک کوئی ریلیف نہیں حاصل ہو سکی ہے۔ اب سپریم کورٹ 5 جنوری کو ان کی ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ سنائے گی۔

دہلی فسادات معاملے میں  گزشتہ 5 برس سے زائد عرصے سے مقید عمر خالد، شرجیل امام  اور دیگر ملزمان کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ 1967کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ سنوائی کے بعد ملزمان کی  درخواست ضمانت  پر فیصلہ محفوظ کر لیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ میں ضمانت کی سماعت کے دوران جسٹس اروند کمارنے پوچھا کہ "بھارت تیرے ٹکڑے ہوں گے" کا بیان کس نے دیا تھا۔ اس پرعمر خالد کے وکیل کپل سبل نے جواب دیا کہ یہ عمرخالد نہیں بلکہ کوئی اورطالب علم رہا ہوگا۔

شرجیل امام، عمرخالد، گلفشاں فاطمہ اور شفاءالرحمٰن پر دہلی فسادات کے مبینہ ماسٹر مائنڈ ہونے کے لئے دہشت گردی مخالف قانون یواے پی اے اور آئی پی سی کے التزامات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے۔ ان فسادات میں 53 لوگ مارے گئے تھے اور700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

یہ مقدمہ 2020 کے شمال مشرقی دہلی فسادات سے جڑا ہے جو شہریت ترمیمی قانون (CAA) اور قومی رجسٹر برائے شہری (NRC) کے خلاف احتجاج کے دوران پھوٹ پڑے تھے۔ ان فسادات میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ شرجیل امام کو پولیس نے یو اے پی اے کے تحت گرفتار کر کے اس معاملے میں ’’مرکزی سازش کار‘‘ قرار دیا تھا۔

جیل میں بند شرجیل امام نے اپنی عرضی میں کہا کہ وہ بہادرگنج سے آزاد امیدوارہیں۔ وہ کسی پارٹی سے وابستہ نہیں ہیں۔ آپ کو بتا دیں کہ شرجیل امام کے خلاف دہلی پولیس کی اسپیشل سیل نے سال 2020 میں ایف آئی آر درج کی تھی، اس کے بعد سے وہ جیل میں بند ہیں۔

ملک کی سپریم کورٹ نے آج فروری2020 کے دہلی فسادات میں مبینہ سازش سے متعلق یواے پی اے کیس میں کارکنوں عمر خالد، شرجیل امام، گلفشاں فاطمہ اورمیران حیدرکی درخواستوں پرسماعت کی۔ سپریم کورٹ نے ان ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پردہلی پولیس کونوٹس جاری کیا۔ کیس کی اگلی سماعت 7 اکتوبرکوہوگی۔

پراسیکیوشن کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ ’’خود رو‘‘ یا اتفاقیہ فسادات کا نہیں بلکہ ’’منصوبہ بند، بدنیتی پر مبنی اور گہری سازش‘‘ کا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر بھارت کو بدنام کرنا تھا۔

دہلی ہائی کورٹ نے 2019 کے جامعہ تشدد معاملے میں الزامات عائد کرنے کے خلاف شرجیل امام کی طرف سے دائر درخواست پر جواب طلب کرتے ہوئے دہلی پولیس کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت اس کیس کی اگلی سماعت 24 اپریل کو کرے گی۔ شرجیل امام نے اپنی درخواست میں ساکیت عدالت کی طرف …