Bharat Express DD Free Dish

Protest

جماعت اسلامی ہند نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ہمدردی، انسان دوستی اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، خصوصاً ان افراد کی تشویشناک صحت کے پیشِ نظر جو طویل عرصے سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ جماعت نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر طلبہ کے نمائندوں اور دیگر متعلقہ فریقوں کے ساتھ بامقصد مذاکرات کا آغاز کرے، ان کو سنجیدگی سے سنے اور ان کے جائز، منصفانہ اور آئینی مطالبات کو پورا کرنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔

کنال کامرا نے اپنے خطاب کہا ’’موجودہ حکومت سیتا کے شوہر کا نام لے کر نیتا کے شوہر کے لیے کام کر رہی ہے اور صرف انہی کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔‘‘ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کنال کامرا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی شخصیات کو اپنے بیانات میں مذہبی حوالوں کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے، جبکہ حامیوں کا موقف ہے کہ کامیڈین نے حکومت پر سیاسی طنز کیا تھا اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

عالمی حالات کے تناظر میں ملک کے مختلف حصوں میں ردعمل کا سلسلہ جاری ہے، اسی دوران اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں ایران سے متعلق جاری مظاہروں پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بی جے پی رکن اسمبلی ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے ان احتجاجی سرگرمیوں کی مذمت کی ہے۔

کانگریس سے وابستہ کارکنان کا مؤقف ہے کہ ان کا احتجاج مجوزہ انڈو۔یو ایس ٹریڈ ڈیل کے خلاف تھا، جس کے بارے میں ان کا دعویٰ ہے کہ یہ معاہدہ ملکی اقتصادی مفادات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ مظاہرین نے الزام لگایا کہ حکومت بین الاقوامی تجارتی معاہدوں میں مقامی صنعتوں اور نوجوانوں کے مفادات کو نظرانداز کر رہی ہے۔

کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر ڈی کے شیوکمار کے ایک جارحانہ بیان نے ملکی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ نیشنل ہیرالڈ معاملے اور منریگا قانون کے نام میں تبدیلی کے خلاف کانگریس کے احتجاج کے دوران ڈی کے شیوکمار نے مرکزی حکومت کو کھلا چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت میں ہمت ہے تو کرنسی نوٹوں سے مہاتما گاندھی کی تصویر ہٹا کر دکھائے۔

کانگریس نے منگل کو نیشنل ہیرالڈ کیس میں کانگریس لیڈران سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے خلاف انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی تازہ چارج شیٹ کو ’’سیاسی انتقام‘‘ قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر اپوزیشن کو ’’دھمکانے‘‘ کا الزام لگایا ہے۔

خبر کے مطابق سیکڑوں مسلمانوں نے وقف (ترمیمی) قانون کے خلاف اپنا احتجاج درج کروانے کے لیے انا کوٹی ضلع کے تلاب بازار سے ایک ریلی نکالی تھی۔

ہندو سکھ گلوبل فورم کے مظاہرین کینیڈین ہائی کمیشن کی طرف مارچ کر رہے تھے اور اس دوران انہوں نے پولیس کی رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی۔ مظاہرین نے ’’ہندو اور سکھ ایک ہیں‘‘ اور ’’بھارت اپنے مندروں کی توہین برداشت نہیں کرے گا‘‘ جیسے نعرے لگائے۔

پاکستانی فوج اور پولیس اہلکاروں نے پی او کے میں ٹیکس، مہنگائی اور بجلی کی کمی جیسے مسائل پر پرامن احتجاج کرنے والے لوگوں پر لاٹھی چارج کیا اور آنسو گیس کے گولے داغے۔

 وزیر اعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ سی اے اے کے بعد پاکستانی اور بنگلہ دیشی پورے ملک میں پھیل جائیں گے اور لوگوں کو ہراساں کریں گے۔ انہیں اپنا ووٹ بینک بنانے کے مفاد میں بی جے پی پورے ملک کو مصیبت میں دھکیل رہی ہے۔