Bharat Express DD Free Dish

Political News

پی ایم نریندر مودی نے مزید کہا کہ یہ حملہ صرف بھارت کی روح پر نہیں ہوا تھا، بلکہ ہر اُس ملک اور شخص کے لیے ایک چیلنج تھا جو انسانیت پر یقین رکھتا ہے۔

پی ایم مودی نے بتایا کہ سولر پاور سے کسانوں کی زندگی بدل رہی ہے۔ سولر پمپ اور سولر رائس ملز کے ذریعے کسانوں کی آمدنی بڑھی ہے۔ انہوں نے بہار کی دیوکی جی کا ذکر کیا جنہیں اب محبت سے ’سولر دیدی‘ کہا جاتا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ:"اب تک ایسے امیدواروں کو دیگر امتحانات کے لیے نئے سرے سے تیاری کرنی پڑتی تھی، جو وقت اور وسائل دونوں کا زیاں تھا۔ لیکن ‘پرتیبھا سیتو’  کے ذریعے ان کی محنت کا مناسب استعمال ممکن ہو سکے گا۔"

پی ایم  مودی نے کہا کہ اس مشکل وقت میں فوج، مقامی افراد، سماجی کارکنوں، ڈاکٹروں اور انتظامیہ نے مثالی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے ہر اس شہری کا دل سے شکریہ ادا کیا جنہوں نے انسانیت کو مقدم رکھتے ہوئے آگے بڑھ کر مدد کی۔

پروگرام میں اب تک صفائی مہم (سوچھ بھارت ابھیان)، ماحولیات، ڈیجیٹل تعلیم، خواتین کا بااختیار بنانا اور گراس روٹ سطح پر اختراعات جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی جا چکی ہے۔ اس کے اثرات کی بدولت کئی تحریکیں عوامی شمولیت کے ذریعے قومی سطح پر مؤثر ثابت ہوئیں۔

گلوان جھڑپ کے بعد بھارت اور چین کے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ سرحد پر کشیدگی میں کمی آئی ہے، اور براہ راست پروازیں بھی دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔ چین نے کئی سال بعد پہلی بار کالاش مانسروور یاترا کے لیے راستہ کھول دیا ہے۔

یہ ملاقات مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے (بھارتی وقت کے مطابق صبح 9:30 بجے) طے ہے اور اس کے لیے 40 منٹ کا وقت مخصوص کیا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب بھارت اور چین کے تعلقات میں کچھ حد تک بہتری آئی ہے۔

وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ ریاستی حکومت ہر شہری کے ساتھ کھڑی ہے اور اس آفت کی گھڑی میں کسی کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ سی ایم یوگی نے مویشیوں کے چارے، پینے کے پانی کی صفائی اور صحت کی سہولیات پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت دی۔

وزیر اعظم مودی نے جاپان کے دو سابق وزرائے اعظم — یوشی ہیدے سوگا اور فومیو کشیدا — سے ملاقات کی۔ یہ ملاقاتیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت-جاپان تعلقات کسی ایک رہنما یا حکومت تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کی مضبوط بنیاد ہے۔

مودی نے جاپانی وزیر اعظم شیگیرو ایشیبا کے ساتھ ملاقات کے دوران ایسے پروگراموں کا اعلان کیا جو تعلیم، اسکل ڈیولپمنٹ، ٹیکنالوجی، اور روزگار سے وابستہ ہیں۔