Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

بنگلہ دیش میں جاری خانہ جنگی کے بیچ شیخ حسینہ  اپنا ملک چھوڑ کر ہندوستان پہنچ چکی ہیں ، دہلی کے ہنڈن ایئر بیس پر شیخ حسینہ کا ہیلی کاپٹر لینڈ کیا  اور کافی دیر تک وہاں شیخ حسینہ کو انتظار کرنا پڑا ۔ ذرائع کے مطابق ایئربیس سے شیخ حسینہ کو محفوظ مقام پر لے جایاگیا ہے۔

ہندوستان کی برآمدات کی فہرست میں الیکٹرانکس کے ٹاپ 3 آئٹم بننے پر پی ایم مودی نے کہا کہ یہ واقعی بہت خوشی کی بات ہے۔ یہ ہماری اقتصادی اصلاحات اور میک ان انڈیا کو فروغ دینے کی ہماری کوششوں کا بھی ثبوت ہے۔

آج ہم ہندوستان کی پارلیمنٹ کے آرٹیکل 370 اور 35(A) کو منسوخ کرنے کے فیصلے کے 5 سال کا جشن منا رہے ہیں، جو ہمارے ملک کی تاریخ کا ایک اہم لمحہ تھا۔ یہ جموں و کشمیر اور لداخ میں ترقی اور خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز تھا۔

اپنے خطاب میں، وزیر اعظم  نریندر مودی نے گورنروں پر زور دیا کہ وہ مرکز اور ریاست کے درمیان ایک مؤثر پل کا کردار ادا کریں اور لوگوں اور سماجی تنظیموں کے ساتھ اس انداز میں بات چیت کریں کہ جو لوگ پسماندہ ہیں ان کا ساتھ دیں۔

محکمہ نے کہا، "سخت گرمی اور موسلا دھار بارش کی وجہ سے لوک سبھا کی اسکائی لائٹ پر لگے شیشے میں موجود سلیکون تباہ ہو گیا، جس سے یہ معمولی مسئلہ پیدا ہوا، اسے فوری طور پر حل کر لیا گیا۔

سابق سی ایم جے رام ٹھاکر نے سوشل میڈیا پر لکھا، "گزشتہ رات شدید بارش کی وجہ سے ضلع منڈی میں تھلٹوکھوڑ کے قریب راجمان گاؤں میں جان و مال کا نقصان ہوا ہے اور نرمنڈ کے تحت سمیج، بگی پل علاقوں میں کئی عمارتیں اور مکانات بہہ گئے ہیں اور کئی لوگ لاپتہ ہو گئے ہیں۔ مجھے خبر سن کر بہت دکھ ہوا۔

دونوں ممالک کے وزرائے اعظم نے ویتنام میں آرمی سافٹ ویئر پارک کا افتتاح کیا۔ اپنے ویتنام کے ہم منصب سے ملاقات کے بعد پی ایم مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ میں ویتنام کے پی ایم کا خیر مقدم کرتا ہوں۔

 بی جے پی ہائی کمان اس وقت جے پی نڈا کی جگہ پارٹی کواب نئے صدرکی تلاش میں مصروف ہے۔ اس سے متعلق پارٹی میں لمبے وقت سے غوروخوض جاری ہے۔

پی ایم مودی نے مائیکروبلاگنگ سائٹ ایکس پر منگل کی شام لوک سبھا میں انوراگ ٹھاکر کا خطاب پوسٹ کیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے کیپشن میں لکھا، "میرے نوجوان اور پرجوش ساتھی انوراگ ٹھاکر کی بات ضرور سنی جائے، انہوں نے حقائق کو شاندار انداز میں پیش کرکے انڈی اتحاد کی گندی سیاست کو بے نقاب کیاہے۔

سی آئی آئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم مودی نے کہا کہ 2014 میں 1 کروڑ روپے کمانے والے MSMEs کو فرضی ٹیکس ادا کرنا پڑتا تھا اور اب 3 کروڑ روپے کمانے والے MSME بھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔