Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

وزرائے اعظم نے ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان مسلسل تجارت اور سرمایہ کاری کے بہاؤ کا خیرمقدم کیا اور دو طرفہ تجارت کو بڑھانے کے امکانات کا مزیدبغور جائزہ لینے پر زور دیا ۔  انہوں نے دونوں طرف کے کاروباروں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ روابط استوار کریں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’Truth Social‘‘ پر لیکس فریڈمین کے ساتھ وزیر اعظم مودی کا پوڈکاسٹ شیئر کیے جانے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد وزیر اعظم مودی نے ٹرمپ کے اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اپنا اکاؤنٹ کھول لیا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کی شام دہلی میں ریاستہائے متحدہ کے نیشنل انٹیلی جنس کی ڈائریکٹر تلسی گابرڈ سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم مودی نے تلسی گابرڈ کا استقبال کرتے ہوئے انھیں مہاکبھ سے لایا ہوا گنگا کا مقدس پانی پیش کیا۔

حیدرآباد ہاؤس میں ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے خطاب کیا۔ اس دوران دہشت گردی کے خلاف سخت موقف اپنانے اور عوامی رابطہ بڑھانے پر بھی بات ہوئی۔

مرکزی وزیر شیوراج سنگھ نے کہا کہ گزشتہ دہائی میں وزیر اعظم مودی کی قیادت میں ہندوستان نے غربت کے خاتمے، خواتین کو بااختیار بنانے اور زرعی ترقی کے میدان میں تاریخی کامیابیاں حاصل کی ہیں

پی ایم مودی نے کہاکہ چین کے ساتھ ہمارا سرحدی تنازعہ جاری ہے۔ سال 2020 میں سرحد پر پیش آنے والے واقعات نے ہمارے درمیان فاصلے بڑھا دیے۔ میں نے ابھی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی ہے۔ تب سے سرحد پر حالات بہتر ہوئے ہیں۔ 2020

پی ایم مودی نے اپنے ناقابل شکست سیاسی کیرئیر اور بی جے پی کی کامیابی کے راز کو بھی اس پوڈ کاسٹ کے دوران واضح کیا ۔پی ایم مودی نے کہا کہ ان کی حکمرانی انتخابی نہیں بلکہ عوام پر مرکوز ہے، سیاسی فائدے پر شہریوں کی فلاح و بہبود کو ترجیح دیتے ہیں۔

پی ایم مودی نے اس بات پر زور دیا کہ اکیلے تعلیمی اسکور طالب علم کی حقیقی صلاحیتوں کی وضاحت نہیں کر سکتے اور سیکھنے کے لیے ایک وسیع تر نقطہ نظر کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں- جو تخلیقی صلاحیتوں، تجسس اور حقیقی دنیا کی مہارتوں کو پروان چڑھاتا ہے۔

گفتگو کے دوران پی ایم مودی نے مشترکہ روایات کی طرف اشارہ کیا جو علاقائی اختلافات کے باوجود ہندوستانیوں کو متحد کرتی ہیں۔جنوب سے شمال تک، آپ کو بے پناہ تنوع نظر آئے گا۔ لیکن اگر آپ تھوڑی گہرائی میں غور کریں تو آپ کو ایک مشترکہ دھاگہ ملے گا۔

پی ایم مودی نے کہاکہ پہلی صدیوں میں ہمارے اور چین کے درمیان تنازعات کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ ہمارے دونوں ملک ہمیشہ ایک دوسرے سے سیکھتے رہے، ایک وقت تھا جب چین پر بدھا کا بہت اثر تھا، یہ خیال یہاں سے وہاں تک چلا گیا۔