Bharat Express DD Free Dish

PM Modi

ہندوستان نے جمعہ کو کہا کہ وہ ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ پیش رفت کو لے کر ’’نہایت فکرمند‘‘ ہے اور بدلتی ہوئی صورت حال کی ’’قریب سے نگرانی‘‘ کر رہا ہے۔

وجے روپانی کے دور کو گجرات کی ترقی میں اہم مانا جاتا ہے۔ ان کی قیادت میں ’ایز آف لیونگ‘ جیسے اقدامات نے نہ صرف ریاست کی معاشی ترقی کو تیز کیا بلکہ عام لوگوں کی زندگیوں کو بھی آسان بنایا۔ ان کی سادگی اور عوام کے تئیں حساسیت نے انہیں ایک مقبول لیڈر بنا دیا۔

جائے حادثہ کا دورہ کرنے کے بعد پی ایم مودی احمد آباد سول اسپتال پہنچے، جہاں انہوں نے حادثے میں زخمی ہونے والے لوگوں سے ملاقات کی اور ان کی صحت کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔ اس دوران گجرات کے وزیر اعلی بھوپیندر پٹیل، مرکزی شہری ہوابازی کے وزیر رام موہن نائیڈو اور ریاستی وزیر داخلہ ہرش سنگھوی بھی وزیر اعظم مودی کے ساتھ موجود تھے۔

پی ایم مودی صبح 8:30 بجے احمد آباد ہوائی اڈے پر پہنچے، جہاں سے وہ جائے حادثہ پر گئے اور صورت حال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے تقریباً 20 منٹ تک جائے وقوعہ کا معائنہ کیا اور امدادی کاموں میں مصروف اہلکاروں اور این ڈی آر ایف کی ٹیموں سے معلومات لی۔ اس کے بعد وہ احمد آباد کے سول اسپتال گئے، جہاں انہوں نے زخمیوں سے ملاقات کی، ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا اور زندہ بچ جانے والے واحد مسافر وشو کمار رمیش سے بھی بات کی۔

پی ایم مودی نے اس دورے کے بعد انسٹاگرام پر تصاویر شیئر کی ہیں۔ انہوں نے انسٹاگرام پر لکھا، احمد آباد میں ہوائی حادثے سے ہم سب صدمے میں ہیں۔ اتنے لوگوں کی اچانک اور دل دہلا دینے والی موت کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے سول اسپتال میں ایئر انڈیا کے طیارہ حادثے میں بچ جانے والے وشواش کمار رمیش سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے رمیش کی خیریت دریافت کی۔

وزیر اعظم نریندر مودی آج صبح 9 بجے احمد آباد پہنچیں گے۔ وزیراعظم جائے حادثہ کا دورہ کریں گے اور پھر اسپتال میں داخل زخمیوں سے ملاقات کریں گے۔

احمد آباد طیارہ حادثہ پر وزیر اعظم مودی نے وزیر داخلہ امت شاہ اور شہری ہوا بازی کے وزیر رام موہن نائیڈو سے بات کی۔ پی ایم مودی نے انہیں احمد آباد جانے کو کہا ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے طیارہ حادثے کے بعد متاثرہ افراد کی ہر ممکن مدد کو یقینی بنانے کو کہا ہے۔

مالی سال 2024-2025 میں، ڈیجیٹل ٹرانزیکشن میں سال بہ سال 35 فیصد اضافہ ہوا اور یومیہ 60.81 کروڑ ٹرانزیکشن  تک پہنچ گئیں، جس میں یوپی آئی کا حصہ 83.73 فیصد ہے۔

وزیر ریلوے نے کہا کہ اس راستے سے 30.4 ملین ٹن اضافی سامان کی نقل و حمل ممکن ہو گی۔ اس سے ماحولیات کو فائدہ ہوگا۔ اگر اتنا سامان سڑک کے ذریعے پہنچایا جاتا تو سالانہ 32 کروڑ لیٹر ڈیزل استعمال ہوتا۔ اس کی بچت سے فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی 7 کروڑ درخت لگانے کے مترادف ہے۔