Bharat Express DD Free Dish

PM Modi Visit

وزیراعظم مودی کو ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد علی کی جانب سے دیے گئے ضیافتی عشائیے میں ’وندے ماترم‘ کی پُرسوز پیشکش کے ساتھ نہایت پُرخلوص اور دل کو چھو لینے والا استقبال حاصل ہوا۔

وزیر اعظم مودی کے تین ممالک کے دورے کا آج آخری دن ہے۔ اردن اور ایتھوپیا کے بعد آج وہ عمان پہنچیں گے، جہاں وہ سلطان ہیثم بن طارق سے ملاقات کریں گے۔

وزیراعظم نریندر مودی 28 نومبر کو کرناٹک کے اڈوپی واقع شری کرشن مٹھ پہنچے ہیں، جہاں انہوں نے لکش کنٹھ گیتا پارایَن پروگرام میں حصہ لیا۔ اس پروگرام میں ایک لاکھ شرکاء شریمد بھگود گیتا کا اجتماعی پاٹھ کر رہے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی صدر سیرل رامافوسا کی دعوت پر 20ویں جی20 لیڈرز سمٹ میں شرکت کے لیے جنوبی افریقہ کے جوہانسبرگ جا رہے ہیں۔ یہ افریقہ میں منعقد ہونے والا پہلا جی20 اجلاس ہوگا۔

کرکشیتر دورے میں وزیراعظم مذہبی و ثقافتی تقریبات میں شرکت کریں گے۔ نائب سنگھ سینی نے بتایا کہ وزیراعظم مودی بین الاقوامی گیتا مہوتسو میں بھی شامل ہوں گے۔ یہ فیسٹول 21 دن تک جاری رہے گا۔

وزیراعظم نے پٹنہ صاحب میں دی حاضری، یہ مقدس مقام سکھوں کے دسویں گرو، گرو گوبند سنگھ جی کی جائے پیدائش ہے۔ اس موقع پر مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وزیراعظم نے گردوارے میں موجود عقیدت مندوں سے ملاقات کی اور انہیں آشیرواد دیا۔

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے دیوالی کے موقع پر ملک کے لوگوں کو مبارکباد دی۔ انہوں نے ایکس پر لکھا ’’دیوالی کے مقدس موقع پر میں تمام ہندوستانیوں، چاہے وہ ہندوستان میں ہوں یا دنیا کے کسی کونے میں، کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک تمنائیں پیش کرتی ہوں۔‘‘

پی ایم مودی نے آگے کہا کہ ہمارا عزم ہے کہ "چپ سے لے کر شپ تک" بھارت ہر میدان میں خود کفیل (آتم نربھر) بنے۔ کوئی بھی ملک جو اقتصادی لحاظ سے مضبوط بننا چاہتا ہے، وہ شپ بلڈنگ (جہاز سازی) کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ چاہے وہ تجارت ہو، ٹیکنالوجی ہو یا قومی سلامتی، شپ بلڈنگ ہر میدان میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

وارانسی میں دونوں رہنماؤں کی ملاقات بھارت اور موریشس کے درمیان صدیوں پرانی تہذیبی وابستگی، روحانی رشتوں اور عوامی روابط کو اجاگر کرے گی، جنہوں نے دونوں ملکوں کے خصوصی اور منفرد تعلقات کی بنیاد رکھی ہے۔

یہ وزیراعظم مودی کا 2020 میں گلوان وادی میں تصادم کے بعد چین کا پہلا دورہ ہے۔ حالیہ دنوں میں بھارت اور چین نے اپنے دو طرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں تجارتی راستوں کی بحالی اور دیگر اہم معاملات شامل ہیں۔