سنت گرو روی داس جی کی 649ویں جینتی کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کے روز پنجاب کے آدم پور ایئرپورٹ کا نیا نام شری گرو روی داس مہاراج جی ایئرپورٹ رکھا۔ پارلیمنٹ میں مرکزی بجٹ 2026 پیش کیے جانے کے چار گھنٹے سے بھی کم وقت بعد وزیراعظم مودی آدم پور پہنچے اور ساتھ ہی لدھیانہ کے ہلوارا ایئرپورٹ پر ٹرمینل بلڈنگ کا ورچوئل افتتاح بھی کیا۔سنت گرو روی داس جی کی 649ویں جینتی کے موقع پر دنیا کے پہلے انسان کے نام سے آدم پور ایئرپورٹ کا نام تبدیل کرکے سنت روی داس کے تئیں اپنی عقیدت کو ظاہر کرنا بتایا جا رہا ہے۔ ریاست میں ہوابازی کے بنیادی ڈھانچے کو مزید مضبوط کرتے ہوئے، ہلوارا ایئرپورٹ پر نئی ٹرمینل بلڈنگ نے ریاست کے لیے ایک نیا گیٹ وے فراہم کیا ہے، جو لدھیانہ اور اس کے آس پاس کے صنعتی اور زرعی علاقوں کی ضروریات کو پورا کرتی ہے۔
لدھیانہ کی کنیکٹیویٹی میں نئی بہتری
لدھیانہ کے پرانے ایئرپورٹ کا رن وے نسبتاً چھوٹا تھا، جو صرف چھوٹے طیاروں کے لیے موزوں تھا۔ بہتر کنیکٹیویٹی اور بڑے طیاروں کو سہولت دینے کے لیے ہلوارا میں ایک نیا سول انکلیوتیار کیا گیا ہے، جہاں ایک طویل رن وے موجود ہے جو اے320 طرز کے طیاروں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وزیرِاعظم کے پائیدار اور ماحول کے تئیں ذمہ دار ترقی کے وژن کے مطابق، ٹرمینل میں کئی گرین اور توانائی مؤثر خصوصیات شامل کی گئی ہیں، جن میں ایل ای ڈی لائٹنگ، انسولیٹڈ چھت، بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کا نظام، سیوریج اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس، اور لینڈ اسکیپنگ کے لیے ری سائیکل شدہ پانی کا استعمال شامل ہے۔ٹرمینل کا تعمیراتی ڈیزائن پنجاب کی بھرپور ثقافتی وراثت کی عکاسی کرتا ہے، جو مسافروں کو ایک منفرد اور علاقائی طور پر متاثر کن سفری تجربہ فراہم کرتا ہے۔
پی ایم مودی نے آدم پور ایئربیس پر فوجیوں سے کیا تھا تبادلۂ خیال
وزیراعظم نریندر مودی آخری بار 13 مئی 2025 کو آدم پور ایئربیس گئے تھے، جہاں انہوں نے بہادر فضائی جنگجوؤں اور فوجیوں سے گفتگو کی تھی۔ یہ دورہ بھارت اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کے چند دن بعد ہوا تھا۔ آدم پور اُن ایئر فورس اسٹیشنوں میں شامل ہے جہاں بھارت کے آپریشن سندور کے بعد 9 اور 10 مئی کی درمیانی شب پاکستان نے حملہ کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم وہ اس میں ناکام رہا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
