Bharat Express DD Free Dish

PM Modi meeting

وزیر اعظم نریندر مودی منگل کے روز ملک کے اعلیٰ ترین بیوروکریٹس (سیکریٹریز) کے ساتھ ایک اہم اجلاس کریں گے۔ قواعد و ضوابط کو مزید آسان بنانے اور ملک کو خود کفیل  بنانے کے ایجنڈے پر ہونے والی اس میٹنگ میں ہر سیکریٹری کو اپنی بات پیش کرنے کے لیے صرف تین منٹ کا وقت دیا جائے گا۔

وزیراعظم مودی نے ڈی ایم کے حکومت کو ’’غیر حساس‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سچ اور بھگوان مروگن کے بھکت جیتیں گے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ انہوں نے مرحوم کی اہلیہ تھرومتی اندوماتھی جی اور ان کے بیٹوں سے ملاقات کی۔

یہ اجلاس مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر میں طلب کیا گیا ہے، جہاں امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر فضائی کارروائیوں کے بعد حالات سنگین ہو گئے ہیں۔

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب منی پور میں گزشتہ کچھ عرصے سے نسلی کشیدگی اور تشدد کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔ نئی حکومت کی تشکیل کے بعد وزیراعلیٰ کھیم چند سنگھ نے امن کی بحالی کو اپنی اولین ترجیح قرار دیا ہے۔ مختلف برادریوں کے درمیان مکالمہ، خواتین کو بااختیار بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے ریاست کو معمول پر لانے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔

تجارت، توانائی، ٹیکنالوجی اور دفاع میں نئی شراکت داری پر توجہ۔ بھارت کو دنیا کی تیزی سے ابھرتی ہوئی بڑی معیشت اور عالمی تجارت و ٹیکنالوجی کا اہم مرکز قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون مستقبل میں اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مستحکم کرے گا۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 کے موقع پر لکٹینس ٹین کے شہزادہ الوئس فلپ ماریا ، سری لنکا کے صدر انورا کمارا ڈیسانائکے ، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گٹیرس اور سلوواکیہ کے صدر پیٹر پیلگرینی کے ساتھ دو طرفہ بات چیت کی ۔

یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ ’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ کے پس منظر میں بھارت اور سوئٹزرلینڈ کے درمیان اے آئی گورننس، تحقیق، اختراع اور عالمی تعاون کے شعبوں میں شراکت داری مزید مضبوط ہو رہی ہے۔

وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا: ’’دہلی میں اے آئی امپیکٹ سمٹ کے موقع پر مسٹر سندر پچائی سے ملاقات خوشگوار رہی۔ ہم نے اس بات پر گفتگو کی کہ بھارت اے آئی کے میدان میں کیا کام کر رہا ہے اور گوگل کس طرح ہمارے باصلاحیت طلبہ اور پیشہ ور افراد کے ساتھ مل کر کام کر سکتا ہے۔‘‘

وزیراعظم نے کہا کہ کیرالہ کے عوام ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف سے مایوس ہو چکے ہیں اور اب وہ بی جے پی-این ڈی اے کی طرف بڑی امیدوں کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ریاست میں سیاسی تبدیلی کی فضا بن رہی ہے اور عوام ترقی، شفافیت اور بہتر نظم و نسق چاہتے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی نے رولز رائس کے سی ای او تُوفان ایرگِن بِلگِچ سے ملاقات کی ہے۔ کمپنی بھارت میں اپنے گلوبل کیپیبیلٹی سینٹر کو وسعت دے گی اور دفاعی شعبے میں سرمایہ کاری کرے گی۔