مدورائی (تمل ناڈو): وزیراعظم نریندر مودی نے اتوار کو مدورائی میں کارتگئی دیپم تنازع کے سلسلے میں خودسوزی کرنے والے عقیدت مند پورناچندرن کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ وزیراعظم نے ریاست کی حکمراں جماعت دراوڑ منیترا کزگم (ڈی ایم کے) کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’سچ اور بھگوان مروگن کے بھکت ضرور جیتیں گے۔‘‘ وزیر اعظم نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ مدورائی میں انہوں نے تھرو پورناچندرن کو یاد کیا اور کہا کہ ان کی موت ریاستی حکومت کی غیر حساسیت کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے مرحوم کی اہلیہ ترومتی اندومتی جی اور ان کے بیٹوں سے ملاقات کی۔ مدورائی میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا: ’’یہاں آنے سے پہلے میں تھروپارنکنڈرم جا کر بھگوان مروگن کے درشن کیے اور تمل ناڈو و پورے ملک کی خوشحالی کے لیے دعا کی۔ اسی وقت میرا دل بھاری ہو گیا اور میں اس نوجوان عقیدت مند کو یاد کرنے لگا جس نے اپنی جان قربان کر دی۔ آج میں نے ان کی اہلیہ اور دو کم سن بچوں سے ملاقات کی اور گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔‘‘
عدالت کے فیصلے پر تنازع
یہ تنازع مدراس ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے بعد سامنے آیا تھا جس میں عقیدت مندوں کو تھروپارَنکنڈرم پہاڑی کی چوٹی پر واقع دیپا تھون پر رسمی چراغ جلانے کی اجازت دی گئی تھی۔ ریاستی حکومت نے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی، جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی نے عقیدت مندوں کی حمایت میں مظاہرے کیے تھے۔ گزشتہ سال پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے دوران انڈیا اتحاد کے 100 سے زائد اراکین پارلیمنٹ نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط دے کر جسٹس جی آر سوامی ناتھن کے خلاف مواخذے کی تحریک لانے کا مطالبہ کیا تھا۔
سپریم کورٹ کا موقف
گزشتہ ماہ سپریم کورٹ آف انڈیا نے اکتوبر 2025 کے مدراس ہائی کورٹ کے فیصلے میں مداخلت سے انکار کر دیا تھا۔ اس فیصلے میں مدورائی ضلع کی تھروپارنکنڈرم پہاڑی کے نیلّی تھوپّو علاقے میں بعض مذہبی سرگرمیوں کو محدود کیا گیا تھا۔ عدالت عظمیٰ نے ہائی کورٹ کے حکم کو برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ مسلمانوں کو سکندر بادشاہ اولیا درگاہ میں صرف رمضان اور بقرعید کے مواقع پر نماز ادا کرنے کی اجازت ہوگی، روزانہ کی بنیاد پر نہیں۔ ساتھ ہی درگاہ کے احاطے میں جانوروں کی قربانی پر عائد پابندی کو بھی برقرار رکھا گیا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



