Bharat Express DD Free Dish

Parvesh Verma

زیرِ تعمیر سڑک کے معائنے کے دوران وزیر پرویش ورما اور آپ رکنِ اسمبلی جرنیل سنگھ کے درمیان بحث، آپ کا دعویٰ - پرویش ورما نے واقعے کی ویڈیو بنا رہے نوجوان کو تھپڑ مارا۔

نریش ٹکیٹ نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے لئے پورے پاکستان کو قصور وارٹھہرانا مناسب نہیں ہے۔ پاکستان میں کچھ لوگ دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہاں کی پوری عوام غلط ہے۔

دہلی حج کمیٹی کی چیئرپرسن کوثرجہاں کی دعوت افطار میں مرکزی وزیرکرن رجیجو، وزیرپرویش ورما، اسمبلی اسپیکر وجیندر گپتا، بی جے پی کے سینئر لیڈرسید شاہنوازحسین، ظفراسلام، آرایس ایس لیڈراندریش کمارکےعلاوہ کئی اراکین پارلیمنٹ اوراراکین اسمبلی نے بھی شرکت کی۔

سی ایم ریکھا گپتا نے ہوم اور فائنانس جیسے اہم محکموں کو اپنے پاس رکھا ہے۔ جبکہ سابق وزیر اعلی اروند کیجریوال کو شکست دینے والے پرویش ورما کو تعلیم، عوامی بہبود اور ٹرانسپورٹ کے محکموں کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

دعوت نامہ  کے مطابق حلف برداری کی تقریب آج دوپہر 12 بجے رام لیلا میدان میں ہوگی۔ حلف برداری کی تقریب کے ٹائم ٹیبل کے مطابق تقریب حلف برداری کے مہمان صبح 11 سے 12 بجے کے درمیان پہنچ کر اپنی نشستیں سنبھالیں گے۔

سی ایم امیدوار منتخب ہونے کے بعد ریکھا گپتا نے کہا کہ اعلیٰ قیادت نے مجھ پر جو اعتماد ظاہر کیا ہے اس پر پورا اتروں گی اور نئی حکومت پوری ایمانداری سے کام کرے گی۔ریکھا نے کہا کہ سب سے پہلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتی ہوں۔

ریکھا گپتا بی جے پی مہیلا مورچہ کی قومی نائب صدر ہیں اور ان کا تعلق جند، ہریانہ سے ہے۔ وہ دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کی سکریٹری اور صدر رہیں۔ اس کے ساتھ وہ 2007 اور 2012 میں شمالی پتم پورہ سے کونسلر منتخب ہوئیں۔ انہیں گزشتہ دو اسمبلی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بی جے پی ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی دہلی میں ایک وزیر اعلیٰ اور دو نائب وزیر اعلیٰ بنانے کی تیاری کر رہی ہے۔ نام تقریباً فائنل ہو چکے ہیں۔ ذرائع کی مانیں تو اس بار ایک خاتون ایم ایل اے کو اہم ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے۔

دہلی بی جے پی کے صدر ویریندر سچدیوا نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کا فیصلہ پارٹی کی مرکزی قیادت کرے گی۔ تمام نومنتخب ایم ایل اے پارٹی کی طرف سے تفویض کردہ فرائض کی انجام دہی کے اہل ہیں۔

حال ہی میں عام آدمی پارٹی کے لیڈران آتشی اور سنجے سنگھ نے سندیپ دکشت پر سنگین الزامات لگائے تھے۔ اے اے پی لیڈران نے ان پر بی جے پی اور کانگریس سے کروڑوں روپے لینے اور اے اے پی کو ہرانے کے لئے بی جے پی کے ساتھ ملی بھگت کا الزام لگایا تھا۔