Bharat Express DD Free Dish

Parliament winter session

کانگریس کی سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ رینوکا چودھری کے بیان نے ملک کی سیاست میں شدید ہلچل مچا دی ہے۔ فوج پر حکومت کے دباؤ میں کام کرنے کے الزام نے نہ صرف پارلیمنٹ کے اندر بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی زبردست بحث چھیڑ دی ہے۔ بی جے پی نے اس بیان کو فوج کے وقار پر حملہ قرار دیتے ہوئے کانگریس کی سوچ کو ’’فوج مخالف‘‘ قرار دیا ہے۔

پارلیمنٹ میں جاری سرمائی اجلاس میں خصوصی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے معاملے پر گزشتہ دو دن سے جاری ہنگامے کے درمیان مرکزی حکومت نے آخرکار اپوزیشن کی بحث کی مانگ منظور کر لی ہے۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے واضح کیا کہ حکومت ایس آئی آر پر بحث کے لیے تیار ہے، لیکن اپوزیشن اس کے لیے وقت کی شرط نہیں تھوپ سکتا۔

منگل (2 دسمبر) کی شروعات بھی کچھ مختلف نہ رہی۔ 11 بجے ایوان شروع ہوا لیکن اپوزیشن کے "Vote Chor SIR" کے نعرے لگتے ہی اسے پھر سے ملتوی کرنا پڑا۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ حکومت بحث کے لیے تیار ہے، لیکن اپوزیشن کی شرطیں قبول نہیں کی جا سکتیں۔

سرمائی اجلاس 2025 کے پہلے دن، اپوزیشن کے ایس آئی آر مسئلے پر شدید ہنگامے کے باوجود حکومت نے منی پور جی ایس ٹی (دوسرا ترمیمی) بل 2025 بغیر کسی بحث کے منظور کرا لیا۔ صدراتی حکومت کی وجہ سے جاری آرڈیننس کو اب قانونی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

لوک سبھا کی کارروائی شروع ہوتے ہی اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور زیرو آور میں بحث کا مطالبہ کیا گیا۔ ہنگامہ بڑھنے کے بعد اسپیکر نے کارروائی دوپہر 2 بجے تک کے لیے ملتوی کر دی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آپ کا یہاں تک پہنچنا اور ہمیں آپ کی رہنمائی ملنا، یہ ہندوستان کی جمہوریت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ان کی خوش نصیبی ہے کہ وہ انہیں برسوں سے جانتے ہیں

پی ایم مودی نے اپوزیشن پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ "ڈرامہ کرنے کے لیے بہت جگہیں ہیں۔ جسے نعرے لگوانے ہیں لگوا لے، پورا ملک خالی ہے، لیکن یہاں نعرے نہیں، پالیسی اور کام پر زور ہونا چاہیے۔

اپوزیشن نے بڑھتی ہوئی مہنگائی، بیروزگاری، کسانوں کی حالتِ زار، فضائی آلودگی، اور خارجہ پالیسی جیسے مسائل کو بھی ایوان میں اٹھانے کا عزم ظاہر کیا۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ یہ تمام موضوعات براہ راست عوامی مفاد سے جڑے ہوئے ہیں،

کرن رجیجو دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان سے ملاقات کریں گے، اور حکومت تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کرے گی کہ ایوان کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلانے میں تعاون کیا جائے۔

یکم دسمبر سے 19 دسمبر تک ہوگا سرمائی اجلاس، حکومت 10 بل پیش کرے گی، اپوزیشن SIR معاملے پر ہنگامہ آرائی کی تیاری میں۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے بتایا کہ یہ اجلاس ’’تعمیری اور بامقصد‘‘ ہونے کی امید ہے تاکہ جمہوری عمل مزید مضبوط ہو سکے۔