پارلیمنٹ کا سرمائی اجلاس پیر سے شروع ہونے جا رہا ہے اور امکان ہے کہ یہ سیشن انتہائی گرما گرم اور تنازعہ سے بھرپور رہے گا۔ اجلاس سے قبل ہی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ماحول سخت کشیدہ ہو چکا ہے۔ ایوان کے پہلے ہی دن شدید ہنگامہ آرائی، نعرے بازی اور واک آؤٹ کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ ایسے میں اجلاس کے ہموار آغاز کو یقینی بنانے کے لیے پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے آج صبح 11 بجے کل جماعتی اجلاس طلب کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میٹنگ میں تمام جماعتوں کے خیالات سنے جائیں گے اور پارلیمانی ضابطوں پر عمل کو یقینی بنایا جائے گا۔
کرن رجیجو دونوں ایوانوں لوک سبھا اور راجیہ سبھا کے ارکان سے ملاقات کریں گے، اور حکومت تمام سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کرے گی کہ ایوان کی کارروائی خوش اسلوبی سے چلانے میں تعاون کیا جائے۔ سرمائی اجلاس 19 دسمبر تک جاری رہے گا اور حکومت اس دوران 10 اہم بل پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جن میں جوہری توانائی شعبہ، اعلیٰ تعلیم کے ڈھانچے میں اصلاحات اور کارپوریٹ/اسٹاک مارکیٹ ریگولیشن سے متعلق بل شامل ہیں۔
دوسری طرف اپوزیشن مکمل طور پر جارحانہ موڈ میں ہے۔ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) کا مسئلہ، جو کہ بنگال، اتر پردیش، تمل ناڈو اور کیرالہ جیسی ریاستوں میں سیاسی طوفان بن چکا ہے، اسے اپوزیشن پارلیمنٹ کے فلور پر زور و شور سے اٹھانے کی حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ انتخابی شفافیت اور ووٹر لسٹ میں بے قاعدگیوں پر بحث نہ ہونا جمہوریت کے خلاف ہے۔
آج کی اہم میٹنگیں
راجیہ سبھا بزنس ایڈوائزری کمیٹی (BAC) آج شام 4 بجے اجلاس کرے گی جس میں پہلے ہفتے کے ایجنڈے پر فیصلہ ہوگا۔ لوک سبھا BAC کی میٹنگ شام 5 بجے ہوگی۔ ساتھ ہی کانگریس پارلیمانی حکمت عملی گروپ کی اہم میٹنگ آج 5 بجے 10 جن پتھ پر ہوگی، جس میں سونیا گاندھی، راہل گاندھی اور ملکارجن کھرگے شریک ہوں گے۔
اپوزیشن نہ صرف SIR بلکہ دہلی بم دھماکوں، بڑھتی آلودگی، ووٹ کی چوری اور BLO کی خودکشیوں جیسے حساس معاملات پر بھی حکومت کو گھیرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ دوسری طرف حکومت اپوزیشن کے دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے قوم
پرستی کا بیانیہ مضبوط بنانے کی کوشش کر رہی ہے اور اطلاعات کے مطابق ایوان میں “وندے ماترم“ پر خصوصی بحث کی تجویز لائی جا سکتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



