Bharat Express DD Free Dish

North Korea

North Korea fired shells at South Korea: شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر 200 راؤنڈ بم داغے ہیں۔ اگرچہ یہ بم جنوبی کوریا کی سرزمین پر نہیں گرے لیکن پھر بھی علاقے میں افراتفری پھیلی ہوئی ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج نے اس حملے کی جانکاری دی ہے۔ فوج نے کہا کہ شمالی کوریا نے …

کم جونگ ان نے ملک میں گرتی ہوئی شرح پیدائش پر تشویش کا اظہار کیا۔ اس کے لیے انہوں نے ایک میٹنگ کا اہتمام کیا اور ملک کی خواتین میں شرح پیدائش بڑھانے کی اپیل کی۔ شمالی کوریا کے رہنما کو پیانگ یانگ میں ہزاروں خواتین سے خطاب کے دوران سفید رومال سے آنکھیں بند کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ پروگرام کے دوران ان کے ساتھ حاضرین میں سے بہت سے لوگ بھی رو پڑے۔

مغربی ممالک نے روس اور شمالی کوریا پر کئی پابندیاں عائد کر کے انہیں تنہا کر دیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان دونوں ممالک دو طرفہ تعلقات کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔

امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ روس نے شمالی کوریا کے ساتھ بات چیت میں پیش قدمی کی ہے تاکہ توپ خانے اور راکٹوں کے ذخیرے تک رسائی حاصل کی جا سکے جو ماسکو یوکرین میں اپنی جنگ میں استعمال کر سکتا ہے۔

کم جونگ اُن نے روسی صدر ولادیمیر پیوتن کو اپنے ملک کے سلامتی کے دفاع کے لیے روس کی "مقدس لڑائی" کے لیے "مکمل اور غیر مشروط حمایت" کی پیشکش کی ہے اور کہا ہے کہ پیانگ یانگ "سامراج مخالف" محاذ پر ہمیشہ ماسکو کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

روسی خبر رساں ایجنسی 'تاس' کے مطابق اس ملاقات کا ممکنہ مقام مشرقی روس کا شہر ولادی ووستوک ہے جہاں ولادیمیر پوتن پیر کو بدھ تک جاری رہنے والی ایک بین الاقوامی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچے تھے۔ سال 2019 میں ولادیمیر پوتن نے پہلی بار کم سے اس جگہ ملاقات کی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ہفتے امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان اور روسی صدر ولادیمیر پیوتن کے درمیان ایک خصوصی ملاقات کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے، جو اس ماہ کے اندر ہو گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کنگ نے شمالی کوریا یا کسی تیسرے ملک میں پناہ حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا اور یہ کہ وہ "امریکی معاشرے میں موجود عدم مساوات سے مایوس ہیں۔" رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کنگ کے "غیر قانونی" سرحدی داخلے کی تحقیقات جاری رہیں گی۔

ری یونگ اس سے قبل آرمی چیف آف اسٹاف بھی رہ چکے ہیں۔ جب ان کو 2016 میں تبدیل کیا گیا تو ان کی برطرفی اور اس کے بعد سرکاری تقریبات سے غیر حاضری نے جنوبی کوریا میں رپورٹس کو جنم دیا کہ اسے پھانسی دے دی گئی ہے۔ حالانکہ  جب انہیں ایک اور سینئر عہدے پر نامزد کیا گیا تووہ کچھ مہینوں بعد دوبارہ نمودار ہوئے۔

کِم نے شوئیگو  کے ساتھ  نئے ہتھیاروں اور فوجی سازوسامان کی نمائش کادورہ کیا، نمائش کی تصاویر میں  ممنوعہ بیلسٹک میزائل، ملٹی ایکسل ٹرانسپورٹر لانچرز اور ایک نیا ڈرون دکھائی دے رہا ہے۔ شوئیگو نے کم کو روسی صدر ولادیمیر پوتن کا ایک خط بھی دیا۔ کم نے شوئیگو کی قیادت میں ایک وفد بھیجنے پر پوتن کا شکریہ ادا کیا۔