Bharat Express DD Free Dish

Nikhat Zareen

نکہت زرین کی کہانی اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ اگر ارادے مضبوط ہوں تو سماجی رکاوٹیں، مالی مشکلات اور جسمانی چوٹیں بھی کامیابی کا راستہ نہیں روک سکتیں۔ انہوں نے ثابت کیا کہ خوابوں کی تعبیر صرف انہی لوگوں کو ملتی ہے جو مشکلات کے سامنے ہار نہیں مانتے۔

13 سال کی عمر میں نکہت نے فیصلہ کر لیا کہ وہ باکسنگ میں ہی اپنا مستقبل بنائیں گی۔ انہوں نے ابتدائی تربیت اپنے چچا سے حاصل کی اور تعلیم کے ساتھ ساتھ سخت مشق جاری رکھی۔ صبح و شام کی طویل ٹریننگ، مسلسل محنت اور مضبوط ارادے نے انہیں آہستہ آہستہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر شناخت دلانا شروع کر دی۔

نکہت زرین نے پنجاب کے شہر پٹیالہ میں منعقد ہونے والے کوالیفائنگ ٹرائلز کے ذریعے دونوں اہم مقابلوں کے لیے اپنی جگہ یقینی بنانے کی کوشش کی تھی، تاہم انہیں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسپورٹس میں منعقدہ قومی ٹرائلز کے دوران خواتین کے 51 کلوگرام وزن کے سیمی فائنل مقابلے میں ان کا سامنا ساکشی چودھری سے ہوا، جہاں انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

پیرس اولمپکس کے چھ دن بعد ہندوستان نے تین تمغے جیتے ہیں اور یہ تمام تمغے شوٹنگ میں آئے ہیں۔ مقابلے کا چھٹا دن ہندوستانی ٹیم کے لیے بہت اچھا رہا۔ اپنے پہلے اولمپکس میں کھیل رہے سوپنل کسالے نے مردوں کے 50 میٹر رائفل 3 پوزیشنز مقابلے میں کانسی کا تمغہ جیتا ہے۔

اس جیت کے ساتھ ہی نکہت زرین پری کوارٹر فائنل میں پہنچ گئی ہیں۔ دو بار کی عالمی چیمپئن نکہت زرین نے 2022 کے کامن ویلتھ گیمز میں گولڈ میڈل اور 2022 کے ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا ہے۔

ہندوستان کے پاس تیر اندازی میں بہت سے باصلاحیت کھلاڑی ہیں۔ ہندوستان کو پیرس میں تیر اندازی میں اپنے پہلے تمغے کا انتظار ختم ہونے کی امید ہے۔

تمغوں کی تعداد کی بات کریں تو میزبان چین بدستور پہلے نمبر پر ہے۔ اب تک چین نے کل 242 تمغے جیتے ہیں۔ 131 طلائی تمغوں کے علاوہ چین نے اب تک 72 چاندی اور 39 کانسی کے تمغے جیتے ہیں۔ اس کے بعد جنوبی کوریا دوسرے نمبر پر ہے۔

تلنگانہ کے نظام آباد کی رہنے والی 26 سالہ نکہت کو بچپن سے ہی باکسنگ کا شوق تھا۔ یہ ہمت انہیں اپنے والد محمد جمیل سے ملی۔