Bharat Express DD Free Dish

Neha Singh Rathore

بھوجپوری لوک گلوکارہ نیہا سنگھ راٹھور پیر کے روز لکھنؤ کی حضرت گنج کوتوالی پہنچیں، جہاں انہوں نے اپنے خلاف درج مقدمات کے سلسلے میں پولیس کے سامنے اپنا بیان درج کرایا۔

لوک گلوکارہ اور سماجی کارکن نیہا سنگھ راٹھور کو پہلگام دہشت گرد حملے سے متعلق مبینہ متنازع سوشل میڈیا پوسٹس کے معاملے میں بدھ کے روز سپریم کورٹ آف انڈیا سے بڑی عبوری راحت حاصل ہوئی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے ان کی گرفتاری پر فی الحال روک لگا دی ہے، جس سے انہیں فوری قانونی تحفظ مل گیا ہے۔

حکومت بہار کے انتخابات میں اس دہشت گردانہ حملے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔ پاکستان میں نیہا سنگھ راٹھور کی اس پوسٹ کو لوگ شیئر کر رہے ہیں۔ وہاں کے رہنما اور حکومتی ادارے ان کے بیان کی حمایت کر رہے ہیں۔

سپریا شرینیت نے اس تبصرہ پر سخت اعتراض ظاہر کیا اور اس کا اسکرین شاٹ شیئر کرتے ہوئے کہا، 'وہ ڈی ایم نوئیڈا ہیں، یہ پورے ضلع کی ذمہ داری ہے۔ ملک کے اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے بارے میں ان کی زبان اور خیالات کو ضرور دیکھا جائے۔

بھوجپوری گلوکار نے ریلوے حادثات سے لے کر پیپر لیک اور مہنگائی تک کے مختلف مسائل پر مرکزی حکومت کو گھیرے میں لیا اور طنز کیا کہ کیا ہندوستانی ریلوے کی فروطی لے لی گئی ہے۔

دراصل نیہا سنگھ راٹھور نے آر ایس ایس کو لے کر ٹویٹ کیا تھا۔ اس میں نیہا راٹھور نے ایک وائرل ویڈیو پوسٹ کیا، جس میں دکھایا گیا کہ خاکی نکرپہنے ایک شخص مدھیہ پردیش کے سدھی میں ایک قبائلی مزدور پر پیشاب کر رہا ہے۔

گلوکارہ نے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصویر کے حوالے سے اپنا جواب بھی وائرل کر دیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ وہ جانتی ہیں کہ بی جے پی لیڈر خواتین کا بہت احترام کرتے ہیں، وہ اس بات سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے مزید لکھا کہ عارضی اسٹیج پر جس شخص نے انہیں پیچھے سے پکڑ رکھا تھا وہ ان کا شوہر ہمانشو تھے

سبھاسپا لیڈر ارون راج بھر نے نیہا سنگھ راٹھور اور اکھلیش یادو کے انداز میں ٹویٹ کیا – “یو پی میں میں کا با، یوپی میں غریب کے زمین کو کبزہ نہ ہو پاوت با، یوپی میں ایس پی سماجی انصاف کمیٹی کی رپورٹ لگو کراول نہ چاہت با...

یوپی پولیس کی طرف سے دیے گئے نوٹس میں لکھا گیا ہے کہ مختلف ٹویٹس اور زبانی ذرائع سے شکایات موصول ہوئی ہیں کہ نیہا سنگھ راٹھور کا یہ گانا سماج میں بدامنی پھیلا رہا ہے۔