Bharat Express DD Free Dish

NEET Paper Leak Case

سونیا گاندھی نے کہا کہ انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم نے اپنے عہدے کے وقار اور ذمہ داری کو نظر انداز کیا اور فرقہ وارانہ جھوٹ پھیلانے سے سماجی تانے بانے کو کافی نقصان پہنچا ہے۔

دہلی سے ہزاری باغ پہنچی سی بی آئی ٹیم نیٹ پیپرلیک معاملے کی جانچ کررہی ہے۔ سی بی آئی ٹیم گزشتہ تین دنوں سے یہاں اویسس اسکول سے لے کربینک اورکوریئرکمپنی کے دفترتک گہرائی سے جانچ کرنے میں مصروف ہے۔ حراست میں لئے گئے لوگوں کے فون اورلیپ ٹاپ بھی ضبط کئے گئے ہیں۔

اس معاملے میں مسلسل گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ تحقیقات میں اب تک 24 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ای او یو کی تحقیقات میں پہلی بار پیپر لیک مافیا اور سائبر کرمنلز کا گٹھ جوڑ سامنے آیا ہے۔

نیٹ یوجی 2024 بدعنوانی معاملے میں ابھی بھی عرضی داخل کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ای ڈی اورسی بی آئی سمیت دیگر مطالبات سے متعلق داخل عرضیوں پرسپریم کورٹ نے این ٹی اے کو نوٹس جاری کرکے جواب مانگا ہے۔

NEET-UG پیپر لیک معاملے میں بہار، یوپی اور مہاراشٹر سے کئی ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ مہاراشٹر پولس اور اے ٹی ایس نے اتوار کو NEET-UG پیپر لیک معاملے میں دو اساتذہ سمیت چار لوگوں کو گرفتار کیا۔ ان تمام ملزمین سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

پولیس نے لاتور کے تین اساتذہ سمیت چار لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔ یہ ایف آئی آر مہاراشٹر اے ٹی ایس کی شکایت پر درج کی گئی ہے جس میں اے ٹی ایس نے ان دو اساتذہ کو بھی ملزم بنایا ہے جن سے اتوار کو پوچھ گچھ کی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق ہزاری باغ اویسس اسکول سے NEET-UG پیپر لیک ہوا تھا۔ بہار EOU ٹیم کو کتابچے کے خانے میں چھیڑ چھاڑ کے ثبوت بھی ملے۔ EOU ٹیم نے NEET پیپر لیک سے متعلق رپورٹ مرکزی وزارت تعلیم کو سونپ دی ہے۔

سی ایم نتیش کمار نے باپو ٹاور کا معائنہ کیا اور میڈیا کو اس کے بارے میں بتایا۔ باپو ٹاور کا معائنہ کرنے کے بعد وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ کسی بھی حالت میں اسے ایک ماہ کے اندر مکمل کریں۔

کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا کہ NEET گھوٹالہ کی ذمہ داری مودی حکومت کے اعلیٰ لیڈروں پر عائد ہوتی ہے۔ بیوروکریٹس کو تبدیل کرنا بی جے پی کے ذریعہ تباہ شدہ تعلیمی نظام کے مسئلے کا حل نہیں ہے۔

مرکزی حکومت نے اس سال فروری میں منظور کیے گئے قانون کو ہفتہ (22 جون) سے نافذ کر دیا ہے۔ اس ایکٹ کے تحت مجرموں کے لیے زیادہ سے زیادہ 10 سال قید اور ایک کروڑ روپے تک کے جرمانے کا انتظام ہے۔