Bharat Express DD Free Dish

Naxalites

ہلاک ہونے والوں میں شدت پسند تنظیم کے مرکزی کمیٹی کا رکن پریاگ مانجھی عرف وویک بھی شامل ہے، جس پر ایک کروڑ روپےکا انعام تھا۔

سیکورٹی فورسز کی اس کارروائی کو چھتیس گڑھ میں ماؤنواز سرگرمیوں کو روکنے کی سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی مہمات سے علاقے میں امن کی بحالی کی امید بڑھ گئی ہے۔ حالانکہ، جنگلات اور دیہی علاقوں میں ماؤنوازوں کا خطرہ اب بھی برقرار ہے۔

پولیس نے بتایا کہ چھتیس گڑھ کے دنتے واڑہ ضلع میں پیر کے روز کم از کم 26 نکسلیوں نے، جن میں سے تین پر انعامات بھی تھے، سیکیورٹی فورسز کے سامنے خودسپردگی کی۔

چھتیس گڑھ میں فوج اور سیکورٹی اہلکار ایک ایک کر کے نکسلیوں کو ختم کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ ایسے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے نکسلیوں سے خصوصی اپیل کی ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی کے چھتیس گڑھ کے دورے سے پہلے اتوار کو پچاس ماؤنوازوں نے سیکیورٹی فورسز کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

اس آپریشن کے دوران ڈی آر جی کے دو فوجی زخمی ہوئے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ زخمی فوجیوں کی حالت نارمل بتائی جاتی ہے اور وہ خطرے سے باہر ہیں۔

بائیں بازو کی انتہا پسندی (ایل ڈبلیو ای) کے خطرے سے مکمل طور پر نمٹنے کے لیےحکومت ہند (جی او آئی) نے 2015 میں ’ایل ڈبلیو ای سے نمٹنے کے لیے قومی پالیسی اور ایکشن پلان‘ کو منظوری دی۔

اس سال اب تک 10 انکاؤنٹر میں 119 نکسلائیٹس مارے جاچکے ہیں۔ جب کہ 2024 میں 239 نکسلائیٹس مارے گئے۔ ڈبل انجن والی حکومت کے تحت گزشتہ 14 مہینوں میں کل 358 نکسلیوں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

حکام کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق نکسلیوں کے خلاف ایک تازہ کارروائی میں چھتیس گڑھ میں دو انکاؤنٹر ز میں ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) کے کم از کم 22 ارکان مارے گئے۔

چھتیس گڑھ میں سیکورٹی اہلکار نکسلیوں پرقہربن کرٹوٹ پڑے۔ بیجاپور اور کانکیر میں ہوئے دوالگ الگ انکاؤنٹرمیں کل 22 نکسلیوں کوہلاک کردیا گیا ہے۔