Bharat Express DD Free Dish

NATO

وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات مزید جارحانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ اس بار ان کی توجہ کسی مخالف ریاست پر نہیں بلکہ امریکہ کے ایک پرانے اتحادی اور نیٹو کے رکن ملک ڈنمارک کے زیرِ انتظام خود مختار خطے گرین لینڈ پر مرکوز ہے۔ ٹرمپ نے کھلے عام کہا ہے کہ امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے گرین لینڈ پر کنٹرول حاصل کرنا ضروری ہے، جس کے بعد یورپ اور امریکہ دونوں میں سفارتی ہلچل مچ گئی ہے۔

بھارت میں اس ممکنہ پابندی کے اشاروں کو ’’دباؤ کی سیاست‘‘ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جو عوامی سطح پر قومی خودمختاری کے بیانیے کو مزید تقویت دے گا۔

ہندوستان نے روس سے تیل کی خریداری کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ عالمی پابندیوں کی پاسداری کرتا ہے لیکن یک طرفہ دباؤ کو اپنی قومی مفاد پر اثر انداز نہیں ہونے دے گا۔

ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد بھی ایسے بیانات آتے رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اب یوکرین کو مزید مدد دینے کے حق میں نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق نیٹو جیسی تنظیم کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ یہ مسلم ممالک مل کر انسداد دہشت گردی آپریشن کریں گے۔ وہ اپنی اپنی فوجوں کو جدید بنانے میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔ اپنے رکن ممالک کے اندرونی استحکام کے لیے بیرونی مشکلات کا مقابلہ کریں گے۔

واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق چینی حکومت کی حمایت یافتہ آئی سون  یہ دستاویز وہاں کی انٹیلی جنس اور فوج کو بھی فراہم کرتی ہے۔

صدر طیب اردگان کے حکمران اتحاد کو ترک پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل ہے۔ انہوں نے ہی درخواست کو منظور کرنے کے لیے ووٹ دیا تھا۔ ووٹنگ کے بعد توقع ہے کہ صدر رجب طیب اردگان آنے والے دنوں میں اس بل پر دستخط کر دیں گے۔

پوتن نے انٹرویو کے دوران بتایا کہ انہوں نے (مغرب) فن لینڈ کو نیٹو میں شامل کیا۔ لیکن کیا ہمارا ان سے کوئی جھگڑا ہے؟ 20ویں صدی کے وسط میں علاقائی تنازعات سمیت تمام تنازعات طویل عرصے سے حل ہو چکے ہیں۔ وہاں کوئی مسئلہ نہیں تھا، لیکن اس نے مزید خبردار کیا کہ اب ایک مسئلہ ہو گا، کیونکہ ہم لینن گراڈ ملٹری ڈسٹرکٹ بنائیں گے۔

شنگھائی تعاون تنظیم کا بنیادی مقصد متعدد موضوعات پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جیسے کہ متعلقہ ممالک کے درمیان تعاون، جرائم اور دہشت گردی کے خلاف جنگ، بیرونی سفر اور تجارت میں سہولت فراہم کرنا، قومی سلامتی میں تعاون، تکنیکی تعاون اور دیگر شعبوں میں تعاون۔

فن لینڈ کو ناٹو کی رکنیت دینے سے بوکھلایا روس اپنی فوجی طاقت کو مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ایسے میں فن لینڈ کے بعد اگر یوکرین کو بھی ناٹوکی رکنیت دی گئی تو یہ روس کے لئے کھلا چیلنج ہوگا، جس کا انجام بڑی تباہی ہوسکتی ہے۔