Bharat Express DD Free Dish

NATO

ٹرمپ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تجارتی جنگ میں امریکہ کے پاس برتری ہے، لیکن چین کے ساتھ تجربے نے یہ ظاہر کیا کہ صرف دباؤ بڑھانے سے ہر مسئلے کا حل نہیں نکلتا۔ چین برقی گاڑیوں، بیٹریوں اور دیگر جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور اس کی مصنوعات دنیا بھر کی منڈیوں تک پہنچ رہی ہیں۔

یورپی کمیشن کی صدر نے سعودی عرب کے خلاف حوثی حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین مسلسل حملوں کے دوران اپنے خلیجی شراکت داروں کے ساتھ یکجہتی کے ساتھ کھڑا ہے۔

یورپی ممالک کو اپنی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوگا تاکہ اتحاد مزید مضبوط ہو سکے۔حال ہی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی اتحادیوں پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ جنگ میں امریکہ کی حمایت کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ریپبلکن کانگریس کے لیڈروں نے اس وقت  نیٹو کی اہمیت پر زور دیا۔ سینیٹ آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین راجر ویکر اور ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین مائیک راجرز نے کہا، "ایک مضبوط نیٹو امریکہ کے مفاد میں ہے۔

اسپین کی وزیر دفاع نے کہا، "ہم ایران کے خلاف کسی بھی فوجی مہم کے لیے اپنے ایئر اسپیس اور فوجی اڈوں کا استعمال نہیں ہونے دیں گے۔" اس موقف کو اسپین کے وزیر معیشت کارلوس کیورو نے بھی حمایت دی اور کہا کہ اسپین ایسے جنگی اقدام کی حمایت نہیں کرے گا جو غیر ضروری اور بغیر وجہ کے شروع کیا جائے۔

گزشتہ جمعہ (20 مارچ) کو بھی ٹرمپ نے ایران-اسرائیل کشیدگی کے درمیان آبنائے ہرمز کو کھولنے میں مدد نہ کرنے پر نیٹو ممالک پر ناراضگی ظاہر کی تھی۔ انہوں نے نیٹو کو ’کاغذی شیر‘ اور رکن ممالک کو ’بزدل‘ قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ کے بغیر یہ اتحاد کچھ بھی نہیں ہے۔

ماریناکس نے باقاعدہ پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ یورپی یونین کے آپریشن ’شیلڈ‘ میں یونان کی موجودہ شرکت صرف بحیرہ احمر (ریڈ سی) تک محدود ہے اور اس کا آبنائے ہرمز سے کوئی تعلق نہیں۔

انقرہ میں ایران کے سفیر محمد حسن حبیب اللہ زادہ نے جمعہ کے روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ واقعہ ہمارے لیے بھی ایک سوال ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ کسی تیسرے فریق کی کارروائی ہو سکتی ہے، جو دونوں ممالک کے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

گرین لینڈ کی مقامی حکومت نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت جاری کی ہے اور ہنگامی حالات کے لیے کم از کم پانچ دن کا ضروری سامان ذخیرہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ادھر ٹرمپ نے بھارت کے حوالے سے بھی نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی تعریف کی

بدلتی ہوئی صورتحال کے درمیان یورپی یونین نے اپنے تمام سفیروں کی ہنگامی میٹنگ طلب کر لی ہے۔ یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کے سفیر اتوار کو ایک ایمرجنسی اجلاس کے لیے جمع ہوں گے۔ قبرص، جس کے پاس چھ ماہ کے لیے یورپی یونین کی باری باری صدارتی ذمہ داری ہے، نے ہفتہ کی رات دیر گئے بتایا کہ اس نے اتوار کے روز یہ اجلاس بلایا ہے۔