Bharat Express DD Free Dish

muslim population

ڈاکٹر دنیش شرما نے مزید کہا کہ ہندو سماج کی شرح پیدائش 1.9 فیصد سے کم ہو گئی ہے، جو آبادی کے استحکام کے معیار 2.1 فیصد سے بھی کم ہے۔ شرح پیدائش میں کمی کے باعث ملک میں بزرگ افراد کے تناسب میں اضافے کا خدشہ ہے، جو مستقبل میں ایک بڑی سماجی و اقتصادی چیلنج بن سکتا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ اسلام کی ابتداء مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ سے ہوئی ہے، وہاں صرف 20فیصد مسلمان رہتے ہیں۔ عالمی سطح پر مسلمانوں کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ ایشیا میں ہے جس میں بھارت، پاکستان، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش جیسے ممالک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

توقیر رضا نے کہا کہ وہ بہت پریشان ہیں کہ اللہ کو برا بھلا کہا جارہا ہے۔ حکومت بے ایمان ہے جو قرآن اور اللہ کی توہین کرتی ہے۔ اگر آپ کو اس سے تکلیف ہوتی ہے اور آپ ایماندار ہیں تو میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ دہلی آ جائیں، کسی کو ہماری جائیداد پر قبضہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

الکا لامبا کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں آبادی میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ لوگوں کو کھانا، کپڑا، مکان اور روزگار چاہیے۔ بی جے پی نے ترقی کے نام پر صرف ووٹ لیے، لیکن کچھ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم اقلیتوں کے حقوق کو پامال نہیں ہونے دیں گے۔

آرگنائزر میگزین کے تازہ شمارے کے اداریے میں آبادی کے لحاظ سے پالیسی میں مداخلت کی اپیل بھی کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ میگزین میں اپوزیشن پارٹیوں کے لیڈروں بالخصوص راہل گاندھی اورممتا بنرجی پر تنقید کی گئی ہے۔

پیو کی رپورٹ کے مطابق 1990 سے 2010 کے درمیان عالمی سطح پر مسلمانوں کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ 2010 سے 2030 تک مسلمانوں کی آبادی میں 2.2 فیصد سالانہ کی شرح سے اضافہ متوقع ہے۔ اب تک پوری دنیا میں 72 ممالک ایسے ہیں جہاں 10 لاکھ یا اس سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔

وزارت برائے اقلیتی امور سے پسماندہ مسلمانوں کے سلسلے میں دو سوالات پوچھے گئے تھے۔ جن میں پسماندہ مسلمانوں کی آبادی، سماجی اور معاشی صورتحال جاننے کی کوشش کی گئی تھی ۔ لیکن وزارت کی جانب سے جواب میں ان دونوں سوالات پر خاموشی ہے ۔ حکومت یا تو جواب دینا نہیں چاہتی ، یا پھر حکومت کے پاس جواب نہیں ہے۔