Bharat Express DD Free Dish

Mumbai Police

ایک شخص کی سیڑھی پر چڑھ کر اداکار شاہ رخ خان کے گھر کی دیوار کے اندر جھانکنے کی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے، یہ 14 جنوری کی ہے، یعنی سیف علی خان پر حملے سے دو دن پہلے۔ یہ اداکار کے گھر میں نصب سی سی ٹی وی کیمرے میں ریکارڈ ہوا۔

ڈرائیور نے کہاکہ 'اسپتال پہنچنے کے بعد سیف نے وہاں کے عملے سے کہا کہ میں سیف علی خان ہوں۔ جلدی سے اسٹریچر لاؤ۔اس کے بعد اسٹریچر پر انہیں لے جایا گیا۔یاد رہے کہ سیف علی خان کے گھر میں آدھی رات کو نامعلوم شخص داخل ہواتھا۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فوٹیج اور دیگر سراغ سے ملنے والی معلومات کی بنیاد پر پولیس نے حملہ آور کی تلاش شروع کر دی ہے۔ پولیس نے یہ بھی کہا کہ تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ حملہ آور نے فرار ہونے سے پہلے اپنے کپڑے تبدیل کیے ہوں گے۔

سیف علی خان پرحملہ کرنے والے کی پہلی تصویرسامنے آگئی ہے۔ ایک شخص گزشتہ رات ان کے گھرمیں گھس گیا تھا۔ اس نے سیف علی خان پر چاقو سے 6 حملے کئے تھے، جس کے بعد سیف علی خان کواسپتال لے جایا گیا تھا۔ لیلاوتی اسپتال میں ان کی سرجری ہوئی۔

اداکار سیف علی خان پر حملہ ممبئی کے باندرہ میں واقع ان کی رہائش گاہ پر صبح 2.30 بجے کے قریب ہوا۔ سیف علی خان کی ٹیم کی جانب سے ایک آفیشل بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیف علی خان سرجری سے باہر آ چکے ہیں اور اب خطرے سے باہر ہیں

ممبئی کے جوائنٹ سی پی لاء اینڈ آرڈر نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ سیف کو کل رات علاج کے لیے لیلاوتی اسپتال لے جایا گیا، اور مشتبہ افراد کا سراغ لگانے کے لیے سی سی ٹی وی فوٹیج کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ ڈی سی پی باندرہ ڈویژن نے اداکار کے زخمی ہونے کی تصدیق کی۔

ممبئی پولیس کے مطابق جب نامعلوم شخص سیف کے گھر میں داخل ہوا تو اس نے ان کے ہاؤس ہیلپر سے جھگڑنا شروع کردیا۔ سیف علی خان نے مداخلت کرکے نامعلوم شخص کو روکنے کی کوشش کی تو اس نے سیف علی خان پر حملہ کردیا۔ اس کے بعد سیف علی خان زخمی ہو گئے۔

واضح رہے کہ سال 2022 میں ہی تحقیقاتی ایجنسی نے پی ایم ایل کے تحت چارج شیٹ داخل کی تھی، جو تھانے پولیس کی جانب سے درج کی گئی ایف آئی آر پر مبنی تھی۔ جس میں بھتہ خوری سمیت کئی سنگین الزامات شامل تھے۔

لارنس بشنوئی سے مل رہی دھمکیوں کے درمیان سلمان خان کی شوٹنگ سائٹ پرانجان شخص گھس گیا ہے۔ پوچھ گچھ کرنے پرشخص نے لارنس بشنوئی کا نام سے متعلق دھمکانے کی کوشش بھی کی۔

اب اس معاملے میں پولیس افسران کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ تقریباً 34 سال کی ایک خاتون نے پولیس کنٹرول روم کو فون کیا تھا اور پی ایم مودی کو نقصان پہنچانے اور جان سے مارنے کی دھمکی دی تھی۔ پولیس نے خاتون کو حراست میں لے لیا ہے۔