Bharat Express DD Free Dish

Mosque

مسجد سے وابستہ مولوی معروف خان نے دعویٰ کیا کہ انہیں کارروائی سے صرف ایک روز قبل نوٹس دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق وہ نوٹس کا جواب تیار کر رہے تھے اور قانونی طریقہ کار اختیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن جواب داخل کرنے سے پہلے ہی انتظامیہ نے مسجد کو منہدم کر دیا۔

مقبرے کو بی جے پی ضلع صدر نے مندربتایا۔ اسی دعوے کے بعد سے فتح پور میں تنازعہ شروع ہوگیا۔ ضلع صدر نے اس مقبرے کو ایک ہزار سال پرانا ٹھاکرجی اور شیوجی کا مندربتایا تھا۔ الزام لگایا کہ مندرتوڑکر یہاں مقبرہ بنایا گیا ہے۔ پیرکے روز مقبرے کے باہربڑی تعداد میں ہندو تنظیم کے لوگ پہنچے تھے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی ممبئی کی مساجد میں پولیس کی اجازت کے بغیر لاؤڈ اسپیکر لگا کر اذان دینے اور صوتی آلودگی پھیلانے کا الزام لگاکر اس معاملے میں مسلسل ایکشن میں ہے اور اس کے خلاف پولیس میں شکایت درج کرائی ہے۔

مہاراشٹرا میں بی جے پی نے اب مساجد کے لاؤڈ اسپیکر کی آواز کو مسئلہ بنا دیا ہے۔ بی جے پی کسی بھی ایسی مسجد کے خلاف تھانے میں شکایت درج کرائے گی جہاں لاؤڈ اسپیکر چلائے جا رہے ہیں۔

آندھرا پردیش کے ڈپٹی سی ایم پون کلیان نے کہا، 'جب اس سے کروڑوں ہندوؤں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے، تو وہ کہتے ہیں کہ ہمیں یہ مسئلہ نہیں اٹھانا چاہیے، کیونکہ ہم سیکولر ہیں۔ کیا ہندوؤں کے جذبات نہیں ہیں؟

جرمنی میں شیعہ مسلم طبقے کی 6 دہائی قدیم مسجد کو بند کردیا گیا ہے۔ جرمنی کے داخلی معاملوں کی وزیر نینسی فیجر نے اپنے بیان میں کہا کہ پابندی کے تحت چارشیعہ مساجد کوبند کیا جائے گا۔ ان کا تعلق ایران کی جنگجو تنظیم حزب اللہ سے ہے۔

جسٹس نے فیضیاب مسجد اور مدرسہ کی درخواست بھی نمٹا دی۔ شہری حکام کی جانب سے مسجد اور مدرسہ کو گرا کر وہاں سے ہٹانے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔

''مولانا محمد ماہر (30) تھانہ علاقہ کے کنچن نگر میں واقع محمدی مدینہ مسجد میں رہتے تھے۔ جہاں کچھ بچے بھی ان کے ساتھ رہتے تھے۔ صبح 3 بجے کے قریب بچے چیختے ہوئے باہر آئے تو پڑوسیوں کو قتل کا علم ہوا۔ اس کے فوراً بعد پولیس کو اطلاع دی گئی۔

اسد الدین اویسی نے کہا کہ آج ہمارے پاس وہ جگہ نہیں ہے جہاں ہم نے 500 سالوں تک سجدہ کیا تھا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اب وہاں کیا ہو رہا ہے

مسلم نوجوانوں کی اچھی تعداد اس جگہ پر سجدہ شکر بجالاتی نظر آرہی ہے جہاں کچھ دنوں پہلے شرپسندوں نے  کلام مقدس کی بے حرمتی کی تھی۔ویڈیو میں جو نوجوان مائیک کے ذریعے اعلان کرتا نظرآرہا ہے اس کے مطابق سویڈن میں مسلم نوجوانوں نے اس جگہ مسجد بنانے کے لیے رقم جمع کی جہاں مقدس کتاب کو جلایا گیا تھا۔