Bharat Express DD Free Dish

Middle East

مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود بند ہونے سے ہزاروں پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ مسافروں کو سفر سے قبل فلائٹ اسٹیٹس چیک کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

اسرائیلی حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے اور جنگ سے بچنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری تھیں، اور توقع تھی کہ مذاکرات اگلے ہفتے بھی جاری رہیں گے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کرنا چاہتے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کے چھ تباہ کن جنگی جہاز اور ایک ایئرکرافٹ کیریئر پہلے ہی موجود ہیں۔

ایران اور بھارت کے درمیان تعلقات محض سیاسی یا سفارتی نوعیت کے نہیں، بلکہ تہذیبی، تاریخی اور معاشی بنیادوں پر قائم ہیں۔ دونوں ممالک کا رشتہ ہزاروں برس پر محیط ہے اور اسی طویل ربط نے آج دونوں کو خطے کے اہم شراکت داروں میں بدل دیا ہے۔

اسرائیل کے وزیراعظم بنجامین نتن یاہو نے صدر آئزک ہرزوگ سے صدراتی معافی کے لیے رسمی درخواست دائر کی ہے، جس کے بعد ملک میں سیاسی اور قانونی حلقوں میں یہ بحث گرم ہو گئی ہے کہ آیا نتن یاہو اپنی وزارت عظمیٰ کی کرسی برقرار رکھ پائیں گے یا نہیں۔

اسرائیل اس وقت صحت کے شعبے میں دو محاذوں پر جدوجہد کر رہا ہے۔ ایک طرف خسرے کے بڑھتے ہوئے کیسز کا خطرہ ہے، تو دوسری طرف شہریوں میں ویکسین کے حوالے سے بڑھتی ہوئی ہچکچاہٹ دیکھنے میں آ رہی ہے۔ وہ ملک جو برسوں تک بچوں کی باقاعدہ ویکسینیشن میں تقریباً بہترین ریکارڈ رکھتا رہا، کووڈ-19 وبا کے بعد پیدا ہونے والی ویکسین کے حوالے سے بے اعتقادی نے اس اعتماد کو کمزور کر دیا ہے۔

بی اے پی ایس ہندو مندر ابوظہبی میں 15 نومبر کو ایک شاندار تقریب ’اے سمفنی آف ہارمنی‘ کا انعقاد کیا گیا، جس کا مقصد معذور افراد ، شمولیت، مساوات اور مشترکہ انسانی اقدار کو فروغ دینا تھا۔ اس روح پرور پروگرام میں متحدہ عرب امارات کی قیادت، سماجی رہنماؤں، کمیونٹی نمائندوں، خاندانوں اور معزز مہمانوں سمیت 500 سے زائد افراد نے شرکت کی۔

اسرائیل نے اتوار کو تصدیق کی کہ اُسے غزہ میں حماس کی جانب سے تین یرغمالیوں کی لاشیں موصول ہوئی ہیں۔ یہ اقدام جنگ بندی معاہدے کے تحت لاشوں کے تبادلے کے عمل کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا تھا کہ اسرائیل ایران میں اپنے مقاصد کے حصول کے بہت قریب ہے، جس نے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور جوہری تنصیبات دونوں کو کافی نقصان پہنچایا ہے۔

بدھ کے روز امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کے اہل خانہ کی مرضی سے واپسی کی منظوری دی۔ عراق سے عملے کو ہٹانے کے پیچھے سیکورٹی خدشات ابھی پوری طرح واضح نہیں ہیں۔