Bharat Express DD Free Dish

Middle East Crisis

ایران کے جوہری توانائی ادارے نے بتایا کہ بوشہر جوہری پلانٹ پر ایک بار پھر حملہ کیا گیا ہے۔ یہ جوہری تنصیب خلیج کے کنارے واقع بوشہر شہر کے قریب موجود ہے۔ اطلاعات کے مطابق یہ تیسری مرتبہ ہے جب اس اہم جوہری تنصیب کو نشانہ بنایا گیا ہے،

ملک میں ممکنہ لاک ڈاؤن سے متعلق پھیلنے والی افواہوں پر مرکزی حکومت نے واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی طرح کا لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جا رہی۔ حکومت نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر توجہ نہ دیں اور معمول کے مطابق زندگی جاری رکھیں۔

آر جے ڈی کے ترجمان اور جے این یو کے سابق پروفیسر کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں جمہوریت کی بہار امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہے، عوامی بغاوت ناگزیر

وزیر اعظم مودی نے جمعہ کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک اہم میٹنگ کی، جس میں مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث پیدا ہونے والی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس میٹنگ میں ایندھن کی سپلائی، مہنگائی، لاجسٹکس اور ریاستوں کی تیاریوں کا جائزہ لیا گیا۔

ایران کی پاسداران انقلاب فورس نے ٹرمپ کے تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز امریکہ اور اس کے حامی ممالک کے لیے اب بھی بند ہے۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ کسی بھی ایسے جہاز کو گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جو امریکہ یا اسرائیل کی حمایت کرتا ہو۔ ایران نے خبردار کیا کہ اگر کسی نے زبردستی گزرنے کی کوشش کی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل نے اپنے بیان میں کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں جب مغربی ایشیا میں کشیدگی کے باعث توانائی کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، ایسے وقت میں مرکزی حکومت کی جانب سے ایکسائز ڈیوٹی میں کمی عوام کے لیے بڑی راحت ثابت ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ان کی ترجیح ہمیشہ عام شہریوں کی فلاح و بہبود رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی امریکہ فرسٹ پالیسی کے تحت واشنگٹن براہ راست جنگی صورتحال میں ملوث ہونے سے گریز کرنا چاہتا ہے۔ ایسے میں امریکہ اپنے قابل اعتماد شراکت داروں کو آگے لانے کی کوشش کر رہا ہے۔ بھارت کو ایک توازن رکھنے والی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کیونکہ اس کے ایران، اسرائیل اور امریکہ تینوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ریلائنس انڈسٹریز نے تقریباً پانچ ملین بیرل ایرانی خام تیل خریدا ہے۔ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ امریکہ نے سمندر میں پھنسے ایرانی تیل پر عائد پابندیوں میں عارضی نرمی دی، جس کے بعد یہ خریداری ممکن ہوئی۔ مزید کہا گیا کہ یہ تیل نیشنل ایرانی آئل کمپنی سے حاصل کیا گیا تھا، جس کے بعد اس معاملے پر قیاس آرائیاں تیز ہو گئی تھیں۔

ابوظہبی میڈیا آفس کی جانب سے جاری تازہ بیان میں بتایا گیا کہ فضائی دفاعی نظام نے بیلسٹک میزائل کو کامیابی کے ساتھ فضا میں ہی تباہ کر دیا تھا، تاہم میزائل کے ٹکڑے زمین پر گرنے کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ بیان میں کہا گیا کہ حادثے میں جاں بحق ہونے والے دونوں افراد غیر ملکی شہری تھے جن میں ایک کا تعلق بھارت اور دوسرے کا پاکستان سے ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال کے پیش نظر وزیر اعظم مودی جمعہ کو ملک کی مختلف ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کریں گے۔ یہ اہم میٹنگ شام 6.30 بجے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد ہوگی، جس میں موجودہ حالات، ممکنہ اثرات اور ریاستوں کی تیاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔