Bharat Express DD Free Dish

Meteorological Department

اتوار کے روز جھارکھنڈ میں بارش کا اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ جبکہ مدھیہ مہاراشٹر، چھتیس گڑھ، اڈیشہ، تلنگانہ، مراٹھواڑہ، آندھرا پردیش، کیرالہ، کرناٹک، پڈوچیری اور تمل ناڈو کے لیے بارش کا یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

محکمۂ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق اکتیس جولائی کی صبح 8 بج کر 30 منٹ سے یکم اگست کی صبح 5 بج کر 30 منٹ تک کیرالہ کے کئی علاقوں میں 60 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے دنوں میں بھی ریاست کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ ہلکی سے درمیانی بارش کا امکان برقرار ہے۔

ہفتہ کے روز کولکتہ میں کم سے کم درجۂ حرارت 19.5 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا جو معمول کے مطابق تھا، جبکہ زیادہ سے زیادہ درجۂ حرارت 31.3 ڈگری سیلسیس رہا جو معمول سے 0.8 ڈگری زیادہ تھا۔ ہوا میں نسبتی نمی کم از کم 38 فیصد اور زیادہ سے زیادہ 83 فیصد ریکارڈ کی گئی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق سری نگر میں کم سے کم درجۂ حرارت 1.3 ڈگری سیلسیس، گلمرگ میں منفی 9 ڈگری سیلسیس اور پہلگام میں منفی 5.3 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ایک ماہ سے زائد عرصے بعد سری نگر میں کم از کم درجۂ حرارت صفر سے اوپر درج ہوا ہے۔

محکمہ موسمیات اور آلودگی کنٹرول بورڈ نے شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، بزرگ اور بچے خصوصی احتیاط برتیں اور بارش و تیز ہواؤں کے دوران ہوشیار رہیں۔

ویسٹرن ڈسٹربنس بحیرۂ روم کے خطے میں بننے والا ایک ایکسٹرا ٹراپیکل طوفان ہوتا ہے، جو بھارتی برصغیر کے شمال مغربی حصوں میں سردیوں کے دوران اچانک بارش اور برفباری کا سبب بنتا ہے۔ بھارت، پاکستان، نیپال اور بنگلہ دیش میں ربیع کی فصل کی پیداوار کا بڑا انحصار ویسٹرن ڈسٹربنس کی سرگرمیوں پر ہوتا ہے۔

فروری اور مارچ میں ہونے والی برفباری نسبتاً جلد پگھل جاتی ہے اور زیادہ دیر تک برقرار نہیں رہتی۔ اسی لیے اگر چِلّئی کلاں کے دوران خاطر خواہ برفباری نہ ہو تو گرمیوں کے مہینوں میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

محکمۂ موسمیات کے مطابق 6 جنوری کے بعد کم از کم درجۂ حرارت میں بتدریج بہتری کے آثار ہیں، لیکن فی الحال سردی اور کہرے سے راحت کے امکانات کم ہیں۔ جنوبی جھارکھنڈ کے اضلاع مشرقی اور مغربی سنگھ بھوم اور سمڈیگا میں سردی کا اثر نسبتاً کم رہنے کا اندازہ ہے۔

حکام نے نچلے علاقوں میں رہنے والے لوگوں سے محتاط رہنے اور پانی جمع ہونے والے علاقوں سے دور رہنے کی اپیل کی ہے، کیونکہ مسلسل بارش آئندہ دنوں میں شمالی تمل ناڈو اور ڈیلٹا کے کچھ حصوں میں سیلاب کا باعث بن سکتی ہے۔