Bharat Express DD Free Dish

Lula da Silva

صدر لولا فروری 2026 میں ہندوستان کے دورے پر آئے تھے۔ اس دوران حیدرآباد ہاؤس میں وزیر اعظم مودی کے ساتھ ان کی دوطرفہ بات چیت ہوئی تھی۔ دونوں رہنماؤں نے ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹر، دفاع، صاف توانائی، زراعت اور ’عالمی جنوب‘ کے مفادات سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے پر زور دیا تھا۔

برازیل کے صدارتی انتخاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی پالیسیاں بھی اہم موضوع رہیں۔ لولا نے برازیل کی برآمدات پر امریکہ کی جانب سے عائد کردہ محصولات اور منشیات کی اسمگلنگ کرنے والے گروہوں کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیمیں قرار دینے کے امریکی فیصلے پر تنقید کی۔فلاویو بولسونارو نے ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے اور تجارتی معاہدے کرنے کا وعدہ کیا۔

صدر لولا نے بھارت آمد پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کا چھٹا بھارت دورہ ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی ملاقات انتہائی نتیجہ خیز رہی۔ ان کے مطابق یہ صرف گلوبل ساؤتھ کی دو بڑی جمہوریتوں کی ملاقات نہیں بلکہ ایک ڈیجیٹل سپر پاور اور قابلِ تجدید توانائی کی سپر پاور کے درمیان شراکت داری ہے۔

وزیر اعظم مودی نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان متعدد ملاقاتیں ہو چکی ہیں اور ہر ملاقات میں بھارت کے لیے صدر لوئز ایناسیو لولا ڈا سلوا کی گہری دوستی اور اعتماد واضح طور پر محسوس کیا گیا ہے۔

اس سے قبل صدر لولا ڈا سلوا کو نئی دہلی میں واقع راشٹرپتی بھون کے صحن میں شاندار رسمی استقبال پیش کیا گیا۔ اس موقع پر بھارت کی صدر دروپدی مرمو اور وزیراعظم نریندر مودی بھی موجود تھے۔ برازیلی صدر کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ شروع ہوا۔

برازیل کے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا جلد ہی بھارت کے سرکاری دورے پر آنے والے ہیں، جہاں وہ اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026 میں شرکت کریں گے۔ وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو ایک پریس بریفنگ کے دوران اس دورے کی تفصیلات جاری کیں۔

پی ایم مودی نے ایک ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کی پیش کش کا لطف اٹھایا جس میں روایتی آلات جیسے ہارمونیم اور طبلہ کا استعمال کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم مودی برازیل کے سرکاری دورے پر ہیں۔ وہ برازیلی صدر لولا کے ساتھ تجارت، دفاع، توانائی، خلائی، ٹیکنالوجی، زراعت، صحت سمیت متعدد معاملات پر دوطرفہ بات چیت کریں گے۔

دنیا کے چوتھے بڑے ملک برازیل کے صدر 79 سالہ لولا اکتوبر کے آخر میں زخمی ہو گئے تھے۔ اب انہوں نے بغاوت کی کوشش میں ملوث افراد کو 'سخت سزا' دینے کا اعلان کیا ہے۔

وزیر انصاف فلاویو ڈینو نے کہا کہ اب تک فساد برپا کرنے والے کم از کم 200 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے اور سیکورٹی فورسز مظاہرین کو منتشر کرنے میں کامیاب ہونے کے بعد کانگریس، سپریم کورٹ اور صدارتی محل کے اطراف کی صورتحال بھی قابو میں ہے