Bharat Express DD Free Dish

lucknow

لکھنؤ کے کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (کے جی ایم یو) کیمپس میں واقع قدیم مزارات کو لے کر جاری انہدامی نوٹس نے ایک بڑا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ جمعیۃ علمائے ہند نے اس کارروائی کو مذہبی آزادی اور آئینی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے نوٹس فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

ملک کے 77ویں یومِ جمہوریہ کے موقع پر اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ میں حب الوطنی، قومی اتحاد اور قومی وقار کا شاندار منظر دیکھنے کو ملے گا۔ سروجنی نگر اسمبلی حلقہ میں 26 جنوری 2026 بروز پیر کو ”سروجنی نگر ترنگا یاترا (بائیک و کار ریلی)“ کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کی قیادت حلقے کے معزز رکن اسمبلی ڈاکٹر راجیشور سنگھ کریں گے۔

اتحاد، تنوع اور قومی ترقی میں اقلیتی تعلیم کے کردار پر غور کے لیے لکھنؤ میں نامور رہنماؤں اور ماہرین تعلیم کا اجتماع

لکھنؤ کے کے جی ایم یو کیمپس میں واقع مزار کو ہٹانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے نوٹس جاری کیے جانے کے بعد تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔ نوٹس میں 15 دن کے اندر مزار ہٹانے کی ہدایت دی گئی ہے، بصورت دیگر انتظامیہ کارروائی کرے گی اور اس پر آنے والا خرچ بھی ذمہ داران سے وصول کیا جائے گا۔

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ میں بینک آف انڈیا کی صدر شاخ سے جڑے ایک بڑے مالی گھوٹالے نے ہلچل مچا دی ہے۔ الزام ہے کہ اتر پردیش فاریسٹ کارپوریشن کے نام پر جعلی دستاویزات کے ذریعے بچت کھاتہ کھول کر 64 کروڑ 82 لاکھ روپے کا غبن کیا گیا۔

بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کی سپریمو مایاوتی کی سالگرہ کے موقع پر منعقدہ پریس کانفرنس اس وقت اچانک متاثر ہو گئی جب کانفرنس ہال میں شارٹ سرکٹ کے باعث دھواں پھیل گیا۔ اس غیر متوقع واقعے کے نتیجے میں ہال میں موجود صحافیوں اور پارٹی کارکنوں میں افرا تفری مچ گئی، جس کے بعد مایاوتی کو بغیر میڈیا کے سوالات کے جواب دیے ہی کانفرنس ادھوری چھوڑ کر باہر جانا پڑا۔

لکھنؤ کی کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی (KGMU) میں طالبہ سے جنسی استحصال کے معاملے میں ملزم ریزیڈنٹ ڈاکٹر رمیض ملک کی کال ڈیٹیل نے دو پروفیسرز کو شک کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔ اس کیس کی جانچ پولیس اور یونیورسٹی کی دو الگ الگ کمیٹیاں کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے واضح کیا کہ ان کا پختہ عزم ہے کہ سماج کے آخری پائیدان پر کھڑا فرد بھی شدید سردی میں خود کو اکیلا یا بے سہارا محسوس نہ کرے۔

ٹرمینل کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کے دوران، ٹرمینل کے آس پاس کے اسٹیشنوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا تاکہ مجموعی صلاحیت میں توازن برقرار رہے۔ مثال کے طور پر پونے کے معاملے میں، پونے اسٹیشن پر پلیٹ فارم اور اسٹیبلنگ لائنوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہڈپسر، کھڈکی اور آلندی میں بھی صلاحیت بڑھانے پر غور کیا گیا ہے۔

لکھنؤ کے بسنت کنج میں واقع راشٹر پریرنا استھل کو کنول کے پھول کی شکل میں تعمیر کیا گیا ہے۔ اس استھل میں ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی، پنڈت دین دیال اُپادھیائے اور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کے 65 فٹ بلند کانسے کے مجسمے نصب کیے گئے ہیں۔