Bharat Express DD Free Dish

Kulgam

بی جے پی کے ایک اور رکن اسمبلی سنیل بھاردواج نے کہا کہ 2014 کے بعد جموں و کشمیر کے حالات میں نمایاں بہتری آئی ہے اور حکومت مسلسل کوشش کر رہی ہے کہ ریاست کی شناخت دہشت گردی نہیں بلکہ سیاحت اور ترقی سے ہو۔ انہوں نے الزام لگایا کہ سرحد پار سے سرگرم دہشت گرد تنظیمیں اب بھی ٹارگٹ کلنگ، سکیورٹی فورسز پر حملوں اور سیاحوں کو نشانہ بنا کر وادی کا ماحول خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں،

حکام نے بتایا کہ واقعے کے فوراً بعد سیکورٹی فورسز نے پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب وادیٔ کشمیر میں حالیہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کے بعد سیکورٹی فورسز نے انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں میں مزید تیزی لا دی ہے۔

مسلسل چار دنوں سے جاری موسلا دھار بارشوں کے باعث علاقے کے بڑے حصے میں پانی جمع ہونے کے بعد نچلے علاقوں سے ہزاروں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس دوران، جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی میں سانحہ پیش آیا، جہاں ویشنو دیوی یاترا کا راستہ لینڈ سلائیڈ کی زد میں آ گیا۔

28 جولائی کو سری نگر کے ہروان علاقے میں داچیگام نیشنل پارک میں ’آپریشن مہادیو‘ میں تین پاکستانی دہشت گرد مارے گئے تھے۔ ان دہشت گردوں میں لشکر طیبہ کے کمانڈر سلیمان شاہ اور اس کے دو ساتھی ابو حمزہ اور جبران بھائی شامل تھے۔ یہ تینوں دہشت گرد 22 اپریل کو پہلگام میں ہوئے حملے میں ملوث تھے، جس میں 26 بے گناہ لوگ مارے گئے تھے۔

جموں و کشمیر پولیس نے کہا کہ جنوبی کشمیر ضلع کے موڈرگام گاؤں میں ملی ٹینٹوں کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کی۔

کولگام پولیس نے بتایا کہ اطلاع ملنے کے بعد سیکورٹی فورسز نے کولگام کے نیہما گاؤں کو گھیرے میں لے کر تلاشی مہم شروع کی۔ اس دوران ہی پانچ دہشت گرد مارے گئے ہیں۔ ان کی شناخت سمیر احمد شیخ، یاسر بلال بھٹ، دانش احمد ٹھوکر، حنظلہ یعقوب شاہ اور عبید احمد پڈر کے طور پر ہوئی ہے۔

علاقے کا محاصرہ کرکے ملیٹنٹوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی کوشش کی جارہی ہے۔اضافی سیکورٹی فورسز بھی پہنچی ہے اور چونکہ جنگل کا علاقہ ہے اس لئے یہ جھڑپ دیر تک جاری رہ سکتی ہے۔ ابھی تک کسی ملیٹنٹ کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے ۔ البتہ خبر لکھے جانے تک تین جوان کے زخمی ہونے کی خبر ہے۔

مقامی دیہاتیوں کے مطابق جاوید بچپن سے ہی فطرتاً مدد کرنے والا شخص رہا ہے۔ وہ غریب لوگوں کی مدد کرنے میں ہمیشہ سب سے آگے رہتا ہے اور اپنے اغوا سے صرف دو دن پہلے اس نے قریبی گاؤں میں ایک مریض کو خون کا عطیہ دیا تھا۔سال 2014 کے سیلاب کے دوران اس نے اپنے گاؤں کے دیگر نوجوانوں کے ساتھ سیلاب میں پھنسے لوگوں کی مدد کے لیے انتھک محنت کی تھی ۔

آرمی کے 25 سالہ جوان کا نام جاوید احمد وانی ہے۔ وہ کلگام کے اشتھل کا رہنے والا ہے اور اس کی پوسٹنگ لیہہ (لداخ) میں تھی۔ وہ عید کے موقع پر چھٹی لے کر گھر آیا ہوا تھا۔ یہاں وہ کچھ سامان لینے کے لیے باہر نکلا اور لاپتہ ہوگیا۔