Bharat Express DD Free Dish

Karnataka Politics

اس تقریب میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنماؤں، کارکنان اور حامیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب میں یدی یورپا کے بیٹے اور ریاستی بی جے پی صدر بی وائی وجیندر، سابق وزیر بی سری راملو سمیت کئی سینئر لیڈر بھی موجود تھے۔

کرناٹک کے سب سے طویل عرصے تک وزیر اعلیٰ رہنے والے رہنما بنے سدارامیا، ڈپٹی سی ایم نے قرار دیا تاریخی لمحہ۔ اس موقع پر کرناٹک کے نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے وزیر اعلیٰ سدارامیا کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا: ’’یہ ایک تاریخی کامیابی ہے، سدارامیا کا نام تاریخ میں درج ہو گیا ہے۔ میں انہیں دل سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔‘‘

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدھارامیا نے وزیر اعلیٰ کی تبدیلی سے متعلق قیاس آرائیوں کو مسترد کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ کسی قسم کا 2.5 سالہ سمجھوتہ نہیں ہوا تھا اور وہ اپنی حکومت کی پوری مدت مکمل کریں گے۔

کرناٹک کی سیاست میں ایک بار پھر لفظی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ اور ریاستی کانگریس کے صدر ڈی کے شیوکمار کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر بی جے پی کے ریاستی صدر اور رکن اسمبلی بی وائی وجیندر نے جمعرات کو سخت جوابی حملہ کیا۔

ڈی کے شیوکمار کا یہ بیان کانگریس ہائی کمان کی میٹنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کرناٹک کے سیاسی بحران پر ہفتہ کو دہلی میں سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر کانگریس ہائی کمان کی ایک اہم میٹنگ ہوئی تھی، جس میں راہل گاندھی، ملکارجن کھڑگے اور کے سی وینوگوپال موجود تھے۔

کرناٹک میں کانگریس حکومت کے اندر وزیراعلیٰ کے عہدے پر رسہ کشی بڑھ گئی ہے۔ نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے سوشل میڈیا پر وعدے کی یاد دہانی کرائی، تو وزیراعلیٰ سدھارمائیا نے جواب دیتے ہوئے پورے مدت کار تک عہدے پر قائم رہنے کا اشارہ دیا۔

کافی عرصے سے مستحکم دکھائی دینے والے کرناٹک میں کانگریس کو سیاسی بحران کا سامنا ہے۔ ڈی کے شیوکمار اور وزیر اعلیٰ سدھارمایا کے حامیوں کے درمیان تنازع بڑھ گیا ہے۔

کرناٹک کی سیاست میں وزیراعلیٰ کےعہدے سے متعلق رسہ کشی جاری ہے۔ دریں اثنا، کے پی سی سی کے صدرڈی کے شیوکمارنے کہا ہے کہ کوئی عہدہ مستقل نہیں ہوتا۔ ان کے بیان کی مختلف طریقوں سے تشریح کی گئی ہے۔ انہوں نے دوسرے لیڈروں کو موقع دینے کی بات کہی ہے، جبکہ خود کو کانگریس کی فرنٹ لائن قیادت میں رہنے کا یقین دلایا ہے۔

شیوکمار نے بی جے پی اور آر ایس ایس میں شامل ہونے کی قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ کانگریس کے ساتھ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ انہوں نے کہا، ’’گاندھی خاندان پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا۔ میں پیدائشی کانگریسی ہوں اور کانگریسی رہ کر ہی مروں گا۔

راہل گاندھی نے کہا کہ ’’کرناٹک میں بہت سے لوگوں کے پاس زمینیں ہیں، لیکن ان کے پاس مالکانہ حق نہیں ہے۔ آج کرناٹک حکومت ریاست کے 1 لاکھ کنبوں کو مالکانہ حق دینے جا رہی ہے۔‘‘