Bharat Express DD Free Dish

Karnataka CM siddaramaiah

ڈی کے شیوکمار کا یہ بیان کانگریس ہائی کمان کی میٹنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ کرناٹک کے سیاسی بحران پر ہفتہ کو دہلی میں سونیا گاندھی کی رہائش گاہ پر کانگریس ہائی کمان کی ایک اہم میٹنگ ہوئی تھی، جس میں راہل گاندھی، ملکارجن کھڑگے اور کے سی وینوگوپال موجود تھے۔

کانگریس پارٹی ایک بار پھر شدید سیاسی بحران اور اندرونی بغاوت کا سامنا کر رہی ہے۔ بہار اسمبلی انتخابات 2025 میں ملی کراری شکست کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات نہ صرف تیز ہو گئے ہیں بلکہ قیادت پر سوال اٹھنے لگے ہیں۔ اس صورتحال نے کانگریس کی اعلیٰ کمان، خصوصاً گاندھی خاندان راہل گاندھی، سونیا گاندھی اور پرینکا گاندھی کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔ پارٹی کے اندر جاری اس بے چینی نے ملک کے سیاسی منظرنامے میں 1969 کی تاریخی کانگریس بغاوت کی یاد تازہ کر دی ہے۔

کرناٹک میں کانگریس حکومت کے اندر وزیراعلیٰ کے عہدے پر رسہ کشی بڑھ گئی ہے۔ نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمار نے سوشل میڈیا پر وعدے کی یاد دہانی کرائی، تو وزیراعلیٰ سدھارمائیا نے جواب دیتے ہوئے پورے مدت کار تک عہدے پر قائم رہنے کا اشارہ دیا۔

کافی عرصے سے مستحکم دکھائی دینے والے کرناٹک میں کانگریس کو سیاسی بحران کا سامنا ہے۔ ڈی کے شیوکمار اور وزیر اعلیٰ سدھارمایا کے حامیوں کے درمیان تنازع بڑھ گیا ہے۔

بی جے پی کرناٹک کے صدر بی وائی وجیندر نے اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ جب بانو مشتاق کو مدعو کیا گیا تو ان کی کتاب ہارٹ لیمپ کا ترجمہ کرنے والی دیپا بھاشتی کو کیوں نظرانداز کیا گیا؟

ای ڈی کی جانب سے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔ درخواست پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا،  راجو، براہ کرم ہمیں منہ کھولنے پر مجبور نہ کریں۔ ورنہ ہمیں ای ڈی کے خلاف کچھ سخت الفاظ استعمال کرنے ہوں گے۔

ڈی کے شیوکمار نے بھی سِدارامیا کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جب سِدارامیا وزیر اعلیٰ ہیں تو قیادت کے معاملے پر کوئی اختلاف کی ضرورت نہیں۔ تاہم، انہوں نے اپنی حمایت کے ساتھ ایک محتاط لہجہ اختیار کیا اور کہا، "میرے پاس اور کیا آپشن ہے؟ مجھے ان کی حمایت کرنی ہے۔

کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے اعلان کیا کہ آر سی بی کے اہلکاروں کو گرفتار کیا جائے گا اور بھگدڑ کی عدالتی جانچ کا حکم دیا جائے گا۔

رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے ذرائع نے دعویٰ کیا کہ درج فہرست ذاتوں اور درج فہرست قبائل کی آبادی بالترتیب 1,09,29,347 اور 42,81,289 ہے۔ زمرہ جات کے لحاظ سے پسماندہ طبقات کی آبادی درج ذیل ہے۔

اس کیس میں ایک مسلم خاتون کی جائیداد کے تنازعہ پر بحث ہوئی، جہاں اس کی بہن کو بھائیوں کے مقابلے میں کم حصہ ملا۔ عدالت نے اسے خواتین کے درمیان امتیازی سلوک کی ایک مثال قرار دیا اور کہا کہ یونیفارم سول کوڈ اس طرح کے فرق کو ختم کر سکتا ہے۔