Bharat Express DD Free Dish

journalist

صحافی محفوظ الرحمن ٰ صاحب کی زندگی میں ان کی صحافتی شجاعت، اصول پسندی اور قومی خدمت کے جذبے کو یاد کرتے ہوئے یہ پروگرام نہ صرف ان کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے بلکہ موجودہ صحافتی اور سماجی صورتحال پر بھی ایک مثبت بحث کا موقع فراہم کرے گا

اتر پردیش حکومت نے ریاستی صحافیوں کی سماجی سلامتی اور بہبود کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے ’’پترکار کلیان کوش‘‘ (صحافی فلاحی فنڈ) کے قیام کی منظوری دے دی ہے۔ اس فنڈ میں 80.31 لاکھ روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔

کتاب کے اجراکے موقع پرمسٹر این وینکٹارمن، ایڈیشنل سالیسٹر جنرل، جنہوں نے پیش لفظ بھی لکھا، مصنف کو مبارکباد دی اور کہا، "اس کتاب  سے کافی کچھ سیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے، یہ کتاب قارئین کواپنی طرف راغب کرتی ہے  ۔"

نیشنل کمیشن فارمائنارٹی ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس کے چیئرمین ڈاکٹرشاہد اختر نے کہا کہ آر ایس ایس اورمسلم راشٹریہ منچ نے علمائے کرام، دانشور اورصحافیوں سے میٹنگ کی ہے تاکہ عام لوگوں سے جڑا جاسکے۔ اس کا مقصد ملک کی تہذیب اور تمام مذاہب کے لوگ اپنے حقوق کے ساتھ آگے بڑھیں اورملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا جاسکتا ہے۔

فضل المبین  نے اپنے تبصرے کا دفاع کرتے ہوئے  کہا کہ کیا اب حکومت کے خلاف بولنا جرم بن گیا ہے؟ یہ واقعہ بہار میں جمہوریت کی حالت پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ ہم امارت شرعیہ اور دیگر مسلم تنظیموں کے احتجاج کی حمایت کر رہے ہیں اور وقف ترمیمی ایکٹ کے خلاف ہیں۔

پولیس سپرنٹنڈنٹ چکریش مشر نے اس قتل معاملہ پر سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ قتل کی سپاری مندر کے ایک پجاری نے دی تھی، جو شکل بدل کر مہولی کوتوالی علاقہ کے کوریدیو مندر میں رہتا تھا۔

فروری میں، دہلی ہائی کورٹ نے سومیا وشواناتھن کے قتل کے قصوروار تمام 4 لوگوں کی سزا کو معطل کر دیا تھا اور دہلی ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ سبھی قصوروار پہلے ہی 14 سال اور 9 ماہ کی سزا کاٹ چکے ہیں۔

پرواسی کے صدر آلوک واتس نے اوکھلا پریس کلب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت مندوں کی مدد کرنا سب سے اہم کام ہے اور اس میں امید کے بیج بوئے جاتے ہیں جو امید کی تکمیل کا باعث بنتے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ اوورسیز سٹیزن شپ آف انڈیا (او سی آئی) کارڈ ہولڈر کے حقوق سے متعلق ہے اس لیے اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ عرضی وکلاء ورندا بھنڈاری، آنندیتا رانا، پرگیہ برسائیاں اور مادھو اگروال کے ذریعے دائر کی گئی ہے۔

سومیا کے قتل کے بعد پولیس کی تمام تر کوششوں کے باوجود کئی مہینوں تک اس کیس کا کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ 2009 میں، جگیشا گھوش، جو وسنت وہار کے ایک کال سینٹر میں کام کرتی تھی، کو اغوا کیا گیا اور پھر قتل کر دیا گیا۔ اس معاملے میں تفتیش کے دوران ایک سی سی ٹی وی فوٹیج سے بلجیت ملک کی تصویر ملی۔