Our response must only be flowers: ’’ہمارا جواب صرف پھول ہونا چاہیے‘‘ سونم وانگچک نے جنتر منتر کے باہر تشدد کی اطلاعات کے درمیان کی مکمل امن کی اپیل
جمعرات کو وانگچک نے ایک بار پھر کہا کہ وہ اپنی بھوک ہڑتال اسی وقت ختم کریں گے جب مرکزی حکومت انہیں یقین دہانی کرائے گی کہ ’چلو سنسد‘ احتجاج میں شامل مظاہرین کے خلاف کوئی تعزیری یا انتقامی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
Arvind Kejriwal on Jantar Mantar Protest: اپنے ہی بچوں پر لاٹھی چارج کیوں؟ کیجریوال کی مرکز سے اپیل، نیٹ پیپر لیک کے خلاف پارلیمنٹ مارچ کے دوران حکومت پر اٹھائے سوال
کیجریوال نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا، "یہ ہمارے ہی ملک کے بچے ہیں، جو انصاف کے لیے سڑکوں پر نکلے ہیں۔ ان پر لاٹھی چارج کرنا مناسب نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ضد اور انا کو ترک کرے اور نوجوانوں کے جائز مطالبات سنے۔"پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے بھی ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے مرکزی حکومت سے اپیل کی کہ وہ مظاہرین کے مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرے
Sonam Wangchuk’s wife: سونم وانگچک کی اہلیہ کی نے دہلی ہائی کورٹ سے کیا رجوع، صفدرجنگ اسپتال میں داخلے کو ‘غیر قانونی حراست’ قرار دیا
کیجریوال نے کہا کہ سونم وانگچک اور ان کے ساتھی نوجوانوں کے مستقبل اور تعلیم سے متعلق اہم مسائل اٹھا رہے ہیں، اس لیے حکومت کو ان کے مطالبات سننے چاہئیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ جمہوری انداز میں اپنی آواز بلند کریں اور نوجوانوں کے مستقبل سے متعلق معاملات پر متحد ہوں۔
Mehbooba Writes to Farooq Abdullah: محبوبہ مفتی نے مجوزہ احتجاج سے کنارہ کشی اختیار کی، فاروق عبداللہ کو خط لکھ کر کہا- آرٹیکل 370 بنیادی ایجنڈا ہونا چاہیے
محبوبہ مفتی نے کہا کہ صرف ریاست کا درجہ بحال کرنے تک محدود احتجاج میں شریک ہونا، آرٹیکل 370 کی بحالی کے لیے ہماری وسیع آئینی جدوجہد کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے مترادف ہوگا۔ اس سے یہ پیغام جائے گا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کو تسلیم کر لیا گیا ہے۔
Jantar Mantar: جانیے جنتر منتر کیسے بنا ملک میں احتجاجی تحریکوں کا سب سے بڑا مرکز اور ہر بڑا مظاہرہ آخر یہیں کیوں ہوتا ہے؟
ان دنوں دہلی کا جنتر منتر ایک بار پھر خبروں میں ہے۔ 1990 کی دہائی سے پہلے تک دہلی کا بوٹ کلب احتجاجی تحریکوں کا سب سے بڑا مرکز سمجھا جاتا تھا، لیکن 1988 کی کسان تحریک کے بعد وہاں احتجاجی مظاہروں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس کے بعد جنتر منتر کو دہلی کا باضابطہ احتجاجی مقام مقرر کیا گیا، جو وقت گزرنے کے ساتھ ملک بھر کی مختلف تحریکوں اور احتجاجی مظاہروں کا سب سے اہم مرکز بن گیا۔
Gitanjali J Angmo: میری اجازت کے بغیر سونم وانگچک کا کوئی علاج نہ کیا جائے!اہلیہ گیتانجلی انگمو کامطالبہ
سونم وانگچک کو اسپتال منتقل کیے جانے کے دوران احتجاجی مقام پر موجود مظاہرین نے شدید مخالفت کی۔ اس دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان معمولی دھکم پیل بھی ہوئی اور حکومت و پولیس انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔ تاہم پولیس نے سونم وانگچک کو ہجوم کے درمیان سے محفوظ طریقے سے ایمبولینس تک پہنچایا اور انہیں اسپتال منتقل کر دیا۔
Abhijeet Dipke: ابھیجیت دیپکے بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے، کہا تحریک ختم نہیں ہوئی، 20 جولائی کو ‘پارلیمنٹ مارچ’ ہوگا، ویڈیو وائرل
دیپکے نے حکومت کے رویے پر سخت ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سونم وانگچک کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ افسوسناک ہے۔ انہوں نے لداخ سے متعلق مطالبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان مطالبات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اسی دوران وہ جذباتی ہو گئے اور ان کی آواز بھرّا گئی، جس کے بعد وہ اسٹیج پر ہی رونے لگے۔
Arvind Kejriwal calls for a protest on July 20: سونم وانگچک کے حق میں اروند کیجریوال کا بڑا اعلان، 20 جولائی کو احتجاجی مارچ کی اپیل
جنتر منتر پر ملک کی بیٹی اور طلبہ کے مستقبل کے لیے گزشتہ 19 دنوں سے بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہے۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ آگے آئیں، اس بہن کی آواز بنیں اور اسے بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
Jantar Mantar Protest: جنترمنتر احتجاج میں اپنے بیان کی وجہ سے پھر سے سرخیوں میں کنال کامرا، متنازع بیان سے بڑھ سکتی ہیں مشکلیں، مذہبی جذبات مجروح کرنے کا لگا الزام
کنال کامرا نے اپنے خطاب کہا ’’موجودہ حکومت سیتا کے شوہر کا نام لے کر نیتا کے شوہر کے لیے کام کر رہی ہے اور صرف انہی کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔‘‘ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کنال کامرا کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ عوامی شخصیات کو اپنے بیانات میں مذہبی حوالوں کے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیے، جبکہ حامیوں کا موقف ہے کہ کامیڈین نے حکومت پر سیاسی طنز کیا تھا اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
Sonam Wangchuk Hunger Strike: مجھ سے انشن ختم کرنے کی اپیل نہ کریں، 20 جولائی کو ’’چلو پارلیمنٹ‘‘ مارچ میں شریک ہو کر اپنی آواز بلند کریں- سونم وانگچک
59 سالہ سونم وانگچک کی صحت پر ڈاکٹروں کی ٹیم مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان کا وزن مزید 400 گرام کم ہوا، جب کہ بھوک ہڑتال شروع ہونے کے بعد اب تک ان کا تقریباً 8.9 کلوگرام وزن گھٹ چکا ہے۔ اس وقت ان کا وزن 57.15 کلوگرام ریکارڈ کیا گیا ہے۔ان کی طبی نگرانی کر رہے ڈاکٹر اشوک لامبا نے بتایا کہ سونم وانگچک کا وزن مجموعی طور پر 9 کلوگرام سے زیادہ کم ہو چکا ہے،





