Bharat Express DD Free Dish

Jamia Hamdard

دو دن جاری رہنے والے اس علمی اجتماع میں ملک کی متعدد جامعات، مدارس اور تحقیقی اداروں سے آئے ہوئے ماہرین نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی، معاشی محرومی، خواتین کی تعلیم، مدارس کی عصری ضروریات، اسلامی مالیات

چیف گیسٹ بھولی آہلووالیہ نے اپنے خطاب میں طلبہ کو خدمتِ خلق پر مبنی پیشہ منتخب کرنے پر سراہا اور کہا کہ شعبۂ صحت میں نرسز کا کردار انتہائی اہم اور ہمدردی پر مبنی ہے۔ گیسٹ آف آنر ڈاکٹر آچلا نے نئے بیچ کو مبارکباد دیتے ہوئے اسے ایک تبدیلی کی علمی و عملی سفر کا آغاز قرار دیا۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ وہ تعلیم اور ہم نصابی سرگرمیوں میں بھرپور دلچسپی سے حصہ لیں۔ 

جامعہ ہمدرد کے رجسٹرار کرنل طاہر مصطفیٰ نے نوجوان اذہان سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’انفرادی سطح پر قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں‘‘ اور جغرافیہ کو قومی خدمت کے لیے ایک اہم آلہ کار بنائیں۔

جامعہ ہمدرد کے سابق وائس چانسلر پروفیسر علاؤالدین احمد کا انتقال ہو گیا ہے۔ اس خبر کے آنے کے بعد علمی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی ہے، علاؤالدین احمد ایک ممتاز ماہر تعلیم، سائنسداں اور دوراندیش رہنما تھے جنہوں نے اپنی زندگی تعلیم، تحقیق اور ابن آدم کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔

ڈاکٹر ایس وائی قریشی نے اپنے کلیدی خطاب میں جنوبی ایشیا میں جمہوریت کے ارتقاء، اس کے چیلنجز اور اس کی مضبوطی پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے اپنی خدمات کے تجربات کی روشنی میں جمہوریت کے بنیادی اصولوں شراکت، نمائندگی اور احتساب پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ یہ اصول جنوبی ایشیائی ممالک میں مختلف صورتوں میں سامنے آئے ہیں۔

 ہر سال کی طرح سر سید ڈے سر شاہ سلیمان ہال میں بڑے جوش و خروش سے منایا گیا اس پروگرام کا آغاز تلاوت قران پاک سے کیا گیا اور سر سید احمد خان نے جو ادارہ قائم کیا تھا آج وہ پھل دار درخت میں تبدیل چکا ہے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آج جو دنیا بھر میں اپنی تعلیم کی وجہ سے جانی جاتی ہے۔

تقریب کے مہمان خصوصی وویک اگروال، سکریٹری وزارت ثقافت، حکومت ہند نے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے جامعہ ہمدرد کی علمی خدمات کو سراہا اور بانی حکیم عبد الحمید صاحب کی بے لوث خدمت کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

جامعہ ہمدرد نے اپنے وسیع تر مشن گرین کیمپس اقدام کے تحت صفائی مہم کا آغاز کیا ہے۔ یہ مہم رجسٹرار کرنل طاہر مصطفیٰ کی قیادت میں فیکلٹی اراکین، طلبہ اور این ایس ایس رضاکاروں کی بھرپور شرکت سے جاری ہے۔

ڈاکٹر کرن سنگھ نے اپنے خطاب میں حکیم عبد الحمید کے ساتھ اپنی یادیں شیئر کیں اور ان اصولوں کو موجودہ نظامِ تعلیم میں شامل کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ تعلیم محض علم کی ترسیل نہ ہو بلکہ ایک ہمہ جہت انسانی ترقی کا ذریعہ بنے۔

مرکزی وزیردھرمیندرپردھان نے جمعرات کوملک کی یونیورسٹیوں کی فہرست جاری کی۔ اس بار این آئی آرایف نے 16 مختلف زمروں میں ملک بھر کی یونیورسٹیوں اوراداروں کی درجہ بندی کی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جامعہ ہمدرد، جو ملک کے ممتاز اقلیتی تعلیمی اداروں میں سے ہیں، نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔