Urdu Conclave 2026

Israeli military

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق، 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 3 ہزار 269 ہو گئی ہے، جبکہ 9 ہزار 840 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار 27 مئی تک کے ہیں۔

امریکہ اورایران کے درمیان 14 دنوں کی جنگ بندی پربھلے ہی رضا مندی بن گئی ہو، لیکن مشرق وسطیٰ میں کشیدگی ابھی بھی برقرارہے۔ اسی درمیان اسرائیل نے حزب اللہ سربراہ نعیم قاسم کے بھتیجے کو ہلاک کرنے کا بڑا دعویٰ کیا ہے۔

طویل تعطل کے بعد اب نئے تجاویز زیر غور ہیں، جن میں کم از کم 60 دن کی جنگ بندی، 10 اسرائیلی یرغمالیوں کی بتدریج رہائی اور ان کی باقیات کی واپسی شامل ہے۔ اس کے بدلے میں بڑی تعداد میں فلسطینی قیدی رہا کیے جائیں گے۔

النصیرت پناہ گزین کیمپ میں ایک اور حملے میں کم از کم 20 فلسطینی ہلاک اور 30 ​​سے ​​زائد زخمی ہوگئے۔ العودہ اسپتال نے حملے کی تصدیق کی ہے اور اسپتال کے مطابق پانی کی ٹینکیوں پر حملوں کے باعث کئی علاقوں میں پانی کی فراہمی میں خلل پڑا ہے۔ ڈرون حملے میں اسپتال کی انتظامی عمارت کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

شام کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’’وحشیانہ جرم‘‘ اور بین الاقوامی قوانین کی ’’سنگین خلاف ورزی‘‘ قرار دیا۔ شام کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ’’غیر مسلح شہریوں کے خلاف یہ وحشیانہ جرم فلسطینیوں اور لبنانی عوام کے خلاف کی جا رہی نسل کشی کا ہی سلسلہ ہے۔‘‘

8 اکتوبر 2023 کو لبنان اسرائیل سرحد پر کشیدگی بڑھ گئی۔ حزب اللہ نے ایک روز قبل اسرائیل پر فلسطینی گروپ حماس کے حملے کی حمایت کی تھی۔ اس کے بعد اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کیے گئے۔ اس کے بعد اسرائیل نے جنوب مشرقی لبنان کی جانب شدید گولہ باری شروع کر دی۔

حزب اللہ نے جنوب مغربی لبنان کے شہر طائر میں اپنے سینیئر فوجی کمانڈر محمد نیمہ نصر کی ہلاکت کے بدلے میں شمالی اسرائیل کی طرف تقریباً 200 راکٹ اور میزائل داغے۔

اقوام متحدہ نے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ 24 گھنٹوں کے اندر شمالی غزہ سے 1.1 ملین افراد کے انخلاء کا حکم واپس لے۔