Bharat Express DD Free Dish

Israel-Iran War

 اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کا برین واش کرکے امریکہ کو جنگ میں پہنچا دیا۔ خفیہ رپورٹس کے خلاف ٹرمپ نے اسرائیل کے دباو میں ایران پر حملہ کرکے بڑا سیاسی تنازعہ مول لے لیا ہے۔

ایران کے سپریم لیڈرآیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے معاملے میں کانگریس لیڈرراہل گاندھی نے وزیراعظم نریندرمودی پرتنقید کی ہے۔ انہوں نے اس معاملے میں وزیراعظم مودی کی خاموشی پربھی سوال اٹھائے ہیں۔ راہل گاندھی نے اس معاملے پر پی ایم مودی کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا۔

امریکہ-اسرائیل کے مسلسل حملوں کے درمیان ایران میں ایک اورمصیبت آگئی ہے۔ آج ایران میں زلزلہ کے جھٹکے محسوس کئے گئے ہیں۔ ایران پرامریکہ اوراسرائیل کے ساتھ قدرت کا بھی قہر دیکھنے کو ملا ہے۔

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں سفارت خانے کے کمپاؤنڈ سے دھوئیں کے گھنے بادل اٹھتے اور آگ کے شعلے دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ ریسکیو ٹیمیں آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ حکام نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ ڈرونز کو فضا میں روکنے کی کوشش کی گئی یا وہ سعودی دارالحکومت کے فضائی دفاعی نظام کو چکمہ دے کر اندر داخل ہوئے۔

کانگریس رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت کے بعد مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس پر ایک بیان جاری ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہندوستان کا سچا دوست ہے اورہندوستان کی خارجہ پالیسی روایتی طورپرایران کے ساتھ رہی ہے، لیکن موجودہ حکومت سفارتی ذمہ داری سے بھاگ رہی ہے۔

بیرون ملک جنگوں میں امریکہ کی سابقہ ناکامیوں کے باعث امریکی عوام میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ رائٹرز-اِپسوس سروے کے مطابق صرف 27 فیصد افراد نے ایران پر حملے کی حمایت کی، جبکہ 43 فیصد اس فیصلے سے متفق نہیں تھے اور 13 فیصد افراد غیر یقینی صورتحال میں تھے۔

اسرائیل اورامریکہ کے حملے کے بعد ایران دبئی سمیت کئی عرب ملک پرحملے کررہا ہے۔ ایسے میں دبئی میں رہنے والے بالی ووڈ ستارے بھی مشکل میں پھنس گئے ہیں۔ اب نرگس فاخری نے بھی اپنے حالات کے بارے میں بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رات میں انہیں نیند نہیں آرہی ہے۔

اڈانی پورٹس نے کہا کہ اسرائیل کے ہائیفا پورٹ پرہمارے گروپ کے سبھی ملازم محفوظ ہیں اورکام کاج معمول کے مطابق ہیں۔ علاقائی کشیدگی کے باوجود پورٹ انفرا اسٹرکچر پوری طرح محفوظ ہے۔

رضا پہلوی ایران کے آخری شاہ کے صاحبزادے ہیں اور گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں وہ بیرونِ ملک سے ایران میں حکومت مخالف احتجاجی تحریکوں کی حمایت کرتے رہے ہیں اور عندیہ دے چکے ہیں کہ موقع ملنے پر وہ تہران واپس آ کر عبوری قیادت کے ذریعے ملک کو جمہوری نظام کی جانب لے جانا چاہتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود بند ہونے سے ہزاروں پروازیں متاثر ہوئی ہیں۔ مسافروں کو سفر سے قبل فلائٹ اسٹیٹس چیک کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔